امریکی فسادات، بائیں بازو کاگروپ انٹیفاکو ٹرمپ نے دہشتگرد قرار دیدیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا الزام بائیں بازو کیگروپ انٹیفا پر لگا دیا۔امریکی ریاست منی سوٹا کے دارالحکومت مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ 6 روز سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں اور صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مختلف شہروں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے۔امریکی صدرنے انٹیفا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بائیں بازو کے گروپ نے پرامن احتجاجی مظاہریکو ہائی جیک کیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق انٹیفا گروپ انتہائی دائیں بازو کی نسلی پرستی کے خلاف قائم ہوا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ مینی پولس کے میئر انتفا پر پہلے دن پابندی لگا دیتے تو سب ٹھیک ہوتا۔دوسری جانب ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے نسل پرستی کے خلاف مظاہرے کے مقام کا دورہ کیا اور ڈیلا ویئر کے علاقے ولمنگٹن پہنچے جہاں گزشتہ رات احتجاج کیا گیا تھا۔جوبائیڈن کا کہنا تھا ہم تکلیف سے دوچارقوم ہیں لیکن ہمیں اس تکلیف کیہاتھوں تباہ نہیں ہونا۔متاثرہ سیاہ فارم خاندان سے گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ صدر بنا تو میں بات چیت کی قیادت کرنے میں مدد کروں گا ، آپ کی بات اسی طرح سنوں گا جس طرح آج یہاں سن رہاہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں