ایل این جی کیس،شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل سمیت 9 ملزمان کیخلاف ریفرنس دائر

اسلام آباد:  قومی احتساب بیورو (نیب)نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت 10 ملزمان کے خلاف ایل این جی ریفرنس دائر کردیا،نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں کہا گیا کہ سابق سیکرٹری اور ایم ڈی پٹرولیم اہم گواہ بن گئے، سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق نے بھی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا، ایک کمپنی کو 21 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا،فائدہ پہنچانے سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہوگا، عوام پر گیس بل کی مد میں 15 سال کے دوران 68 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔منگل کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کیس کی سماعت کی۔ نیب راولپنڈی نے اختیارات کے غلط استعمال پر شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل سمیت 9 ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا جس میں کہا گیا کہ ملزمان نے مارچ 2015سے ستمبر 2019تک ایک کمپنی کو 21ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا جس سے 2029تک قومی خزانے کو 47ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ریفرنس کے مطابق ایل این جی معاہدے کے باعث عوام پرگیس بل کی مد میں 15سال کے دوران 68ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا، پی ایس او کے سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق نے بھی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا، کیس میں چیئرمین اینگرو گروپ حسین داد کو بھی نامزد کیا گیا ہے جبکہ سابق سیکرٹری عابد سعید اور ایم ڈی پیٹرولیم شیخ عمران الحق اہم گواہ بن گئے ہیں۔ نیب نے شاہد خاقان کو لاہور سے گرفتار کیا اور عدالت سے جسمانی ریمانڈ لیا۔شائد خاقان اور مفتاح اسمعیل اس وقت اس جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔شاہد خاقان عباسی سمیت نو ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں۔ نیب راولپنڈی نے قطر معاہدے کی الگ سے انکوائری کر رہے ہیں ۔دوران جسمانی ریمانڈ شاہد خاقان عباسی نے تعاون سے مکمل انکار کیا اور کسی بھی سوال کے تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔احتساب عدالت نے شاہد خاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16دسمبر تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں