کراچی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بچوں کی اموات کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی کوششوں سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاگیا

کوئٹہ  کراچی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بچوں کی اموات کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی کوششوں سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاگیا جب فوڈ اتھارٹی قائم کی گئی تو اس میں ایماندار عملے کی کارروائیوں کی بدولت شہریوں کو یہ محسو س ہونے لگا کہ اب شہر سے مضر صحت اشیاء کی فروخت میں ملوث عناصر کا قلع قمع کیا جائیگا لیکن کچھ ہی عرصے بعد عملے کی تبادلوں کیخلاف فوڈ اتھارٹی غیر فعال ہوگیا بلوچستا فوڈ اتھارٹی کے عملے نے ریسٹورنٹس‘بیکرز ‘ہوٹلز ‘آئس کریم شاپ اور دیگر غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائیاں عمل میں لائی جسے جرمانے اور رریسٹورنٹس وغیرہ سیل کردئیے جس سے عوام نے سکھ کا سانس لیا اور فوڈ اتھارٹی کی کارروائی کو سراہا ‘ لیکن انسانی جانوں سے کھیلنے والے اس قدر بااثر نکلے کہ ایماندار ڈی جی بشیر احمد کو ٹرانسفر کردیا جبکہ اسی کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے ڈائریکٹر آپریشنز ندا کاظمی نے بھی بہت سے کارروائیاں کی ‘ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی بشیر احمد اور ڈائریکٹر آپریشنز ندا کاظمی کا جرم یہ نکلا انہوں نے شہر کے بڑے بڑے ہوٹلز‘ریسٹورنٹس ‘بیکریوں اور دیگر کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی اور ان کے کالے کرتوتوں بارے شہریوں کو آگاہ لیکن شاید کرپٹ مافیا کو بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا قیام ہی پسند نہ تھا انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی فوڈ اتھارٹی بشیر احمد اور ڈائریکٹر آپریشنز نداکاظمی کا تبادلہ کیا اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی ایک بار پھر غیر فعال ہوگیا جس سے عوامی حلقوں کا مایوسی پھیلنے لگی انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو واپس فعال اور ایماندار عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں