شام پر چڑھائی کے حوالے سے امریکی صدر کی ترکی کو دھمکی

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام سے امریکی فوج نکالنے پر روس اور چین ناخوش ہوں گے کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکا اس بوجھ تلے دبا رہے اور ڈالر خرچ کرتا رہے۔امریکی صدر نے کہا کہ شام میں ترکی نے حد سے بڑھ کر کچھ کیا تو ترکی کی معیشت کو تباہ کردیں گے جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔شام سیامریکی فوج پیچھے ہٹانے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے مجھے ان مضحکہ خیز جنگوں سے نکلنے کیلئے ہی منتخب کیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہماری فوج ان لوگوں کیلئے کام کر رہی ہے جو امریکا کو پسند بھی نہیں کرتے، اب ہم بڑے منظرنامے پر دھیان دیں گے۔خیال رہے کہ شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے ترکی کے فیصلے پر امریکا نے گذشتہ روز اپنی فوجیں شام ترک سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانیکا اعلان کیا تھا جس پر کرد ملیشیا نے امریکا پر پیٹ پر چھرا گھونپنے کا الزام عائد کیا ہے۔ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترک فوج تیارہے،کرد ملیشیا کیخلاف کسی بھی لمحے آپریشن شروع ہوسکتاہے۔ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا شام میں ترکی کے آپریشن کی حمایت نہیں کرتا، ترک کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔خیال رہے کہ کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے، عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ترکی کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں