چین، بچے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد گیمز نہیں کھیل پائیں گے، پابندی عائد

بیجنگ: چین میں بچوں کو ڈیڑھ گھنٹے سے زائد اور رات 10 بجے کے بعد آن لائن گیمز کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا قانون نافذ کردیا گیا۔چین میں 14 فیصد سے زائد نابالغ یا 16 سال سے کم عمر کے 33 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہیں۔اس قانون کو چین کے دارالحکومت بیجنگ نے متعارف کرایا ہے جو کہ نوجوانوں اور بچوں میں آن لائن گیمنگز کی لت کو روکنے کے لیے ہے۔قانون کے مطابق 8 سال سے کم عمر بچوں کو ایسے گیمز کھیلنے سے بھی منع کیا گیا ہے جن کے لیے ادائیگی کرنا ضروری ہوتی ہے۔قانون کے مطابق رات 10 بجے تک تمام بچوں کو سونے کی ہدایت کی گئی ہے، چاہے ان بچوں نے اپنا اسکول کا کام مکمل کیا ہو یا نہیں، 16 سال سے کم عمر کے بچے ایک گھنٹے سے زیادہ آن لائن گیمز نہیں کھیلیں گے جب کہ انہیں چھٹی کے دن3 گھنٹے سے زیادہ گیم کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔نافذ کردہ قانون میں رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک نوجوانوں کو گیم کھیلنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف پریس اینڈ پبلیکیشن ترجمان کے مطابق اس ہدایت کا مقصد بچوں اور نوعمر نوجوانوں کو گیمنگ کے جنون سے روکنا ہے۔آن لائن گیمز کھیلنے والے تمام صارفین کو گیمز کھیلنے سے پہلے اپنی شناختی تفصیلات سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ رجسٹر کرنی ہوگی جس کے بعد انہیں آن لائن گیمز کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔واضح رہے کہ چین میں انٹرنیٹ کی لت کو کلینیکل ڈس آرڈر سمجھا جاتا ہے جس میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد آن لائن گیمز کھیلنے کے عادت میں اپنی تعلیم، معاشرتی زندگی اور خاندان کو نظرانداز کرتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 800 ملین سے زائد صارفین انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 29 ملین صارفین 10 سال سے کم عمر کے ہیں۔ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں تقریبا 70 فیصد بچوں کے پاس اپنے اسمارٹ فون ہیں جب کہ 7 سے 9 سال کی عمر کے قریب نصف بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی دی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں