نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے صوبے کی امن وامان کی مجموعی صورتحال جاری ترقیاتی منصوبوں اور مالی صورتحال پر بریفنگ دی

کوئٹہ 08نومبر:۔بلوچستان کے دورے پر آئے ہوئے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے صوبے کی امن وامان کی مجموعی صورتحال جاری ترقیاتی منصوبوں اور مالی صورتحال پر بریفنگ دی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حیدر علی شکوہ نے کورس کے شرکاء کو صوبے میں امن وامان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر امن ومان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ اس سلسلے میں سیکورٹی فورسز کو بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ان کے استعداد کار میں نمایاں اضافہ کیا جارہا ہے، دہشت گردی اور تخریب کاری جیسے منفی عناصر کا موثر تدارک جاری ہے او رموجودہ صوبائی حکومت کی اس تناظر میں موثر اقدامات کررہی ہے، سیکریٹری خزانہ نے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء کو صوبائی بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ میں تعلیم کو اولین ترجیح دی گئی ہے جبکہ امن وامان، صحت، پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول اور غربت کے خاتمے پر رواں مالی سال کے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز رکھے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں بلوچستان کے مسائل اور اس سے متعلق دیگر تمام امور کو مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ، بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈکا آغاز ، ساحلی پٹی اور بلوچستان میں موجود معدنیات سے استفادہ اور سوشل پروٹیکشن کو موثربنانے کے لئے بھی خاطر خواہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں جبکہ درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے احسن اقدامات کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا 44% ہے جس کی معدنیات کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبہ معاشی خودکفالت کی جانب گامزن ہوگا، بعدازاں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حیدر علی شکوہ اور نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کے سینئر انسٹرکٹر بریگیڈیئر محمد ارشد نے شیلڈز کا تبادلہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں