امریکہ اور طالبان کو آج نہیں تو کل مذکرات کی جانب لوٹ کے آنا ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد  ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے امریکہ اور طالبان کو آج نہیں تو کل مذکرات کی جانب لوٹ کے آنا ہوگا امن کی جانب بڑھنے کا راز مذکرات کی میز میں ہی پوشیدہ ہے جس نے ادھر سے ہی آشکار ہونا ہے کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور مظلوم کشمریوں کو استصواب رائے کا بنیادی حق دلانے کے لیے 22کروڑ کی شیر دل قوم اپنی عسکری قیادت کے شانہ بشانہ بھارت کو دندان شکن جواب دینے لے لیے تیار اور بے تاب ہے ان خیالات کا اظہار نھوں نے یوم دفاع پاکستان کے ہیرو چوہدری محمد اکثر شہید کی 54،ویں برسی کے موقع پر منقعدہ تقریب سے اپنے صدارتی خطا ب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے طالبان سے مذکرات معطل کرنا تباہی کے دہانے پر کھڑے افغان مسلے کا حل نہیں ہے انکا کہنا تھا کہ سلگتے افغانستان کا پائیدار حل مذکراتی عمل سے ہی نکلے گا مذاکرات کی ٹیبل پر آئے بغیر دونوں فریق قیام امن کا نئے روڈ میپ کا نیا ایونیو چاک آوٹ نہیں کرپاہیں گیڈپٹی سپیکر نے کہا کہ دنیا کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے مسلے کا حل بات جیت سے ہی نکلا ہے اور میں پر امید اور پرعزم ہوں کہ افغانستان کے مسلے کا حل بھی بات جیت کے عمل سے ہی نکلے گا اور اس کے علاوہ مجھے کوئی راستہ آپشن ا و رچوائس امریکہ اور طالبان کے پاس دکھائی نہیں دتیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس کے لیے دوبارہ مذکرات کی ٹیبل سجے گی مگر اس کا ٹائم فریم امریکہ اور طالبان نے فکس کرنا ہے شہید چوہدری محمد اکثر کی برسی سے خطاب میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ شہدا ہمارے حقیقی ہیروز ہیں ان کی قربانیوں کی بدولت اس مملکت خداداد پاکستان میں امن قائم ہے اور ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ شہدا نے اپنا آج ہمارے کل کیلئے قربان کر دیا پوری قوم کو اپنے شہدا پر فخرہے۔انھوں نے کہا کہ ستمبر 1965کی جنگ میں ہمارے جری جوانوں نے جس بہادری اور شجاعت سے ملک کا دفاع کیا تاریخ میں اسکی نظیر کم ہی ملتی ہے ایسی ہی ایک مثال پاک فوج کے شیر دل جوان چوہدری محمد اکثر شہیدہیں جنہوں نے 1965کی جنگ میں چونڈہ کے محاذ پر شجاعت کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ چوہدری محمد اکثر شہید کی لازوال قربانی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں چوہدری محمد اکثر جیسے شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے آج یہ ملک قائم و دائم ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے اور ہماری تاریخ مسلح افواج کے جری جوانوں کی لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے جنگ اور امن دونوں میں ہماری مسلح افواج کی خدمات قابل تحسین ہیں ان کی موجودگی میں کوئی دشمن ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ستمبر 1965کی جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جرات اور بہادری سے اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست فا ش سے دور چار کیا ۔ اور ان کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملایا ۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر کے مسلہ پر پوری قوم متحد ہے اور کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت دلوانے تک یہ قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ہماری بہادر افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اقوام عالم کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کی صورت میں اس کے اثرات نہ صرف اس خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ ہمارے حضرت امام حسین حق ہے کھڑے ہوتے ہوئے ڈٹ گئے اور جس طرح انہوں نے ظالم کا مقابلہ کیا اور رہتی دنیا تک پیغام دیا کہ حق اور سچ کیلئے ہمیشہ کھڑے رہو چاہے تعداد میں کم ہو لیکن ظلم کے خلاف آواز اٹھا اور آواز بنو۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ شھدا کے والدین کو سلام اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، شھدا کی بہنوں، شھدا کے بچوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ہمارے شھدا کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم یہاں آزاد فضاں میں سانس لے رہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو شہید ہوتے ہیں، انکے والدین پر بھی اللہ پاک کا خاص کرم ہوتا ہے اور جب وہ پاک ذات کہتی ہے کہ شہید کو مردہ نہ کہو تو شہیدوں کے والدین کے دلوں کو غم میں کیسے ڈال سکتا ہے ؟ جسکی اولاد تا قیامت امر ہوگئی ہو وہ دل بھلا پشیمان کیوں ہو ؟ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ بیشک ہم شھدا کے گھر والوں کی قربانیوں کا بدلہ نہیں اتار سکتے پر اتنا ضرور پتا ہے کہ اللہ کے پاس ان کے صبر اور قربانی کا بہت بہترین اجر ہے اور بے شک ایک وہی ذات ہے جو اس قربانی کا ٹھیک ٹھیک اجر دے سکتا تقریب سے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف پیر نقیب الرحمان ، تحریک نوحوانان پاکستان عبداللہ حمید گل ،راجاویداخلاص ،چوہدری محمد عظیم ،قاری نجم مصطفی چوہدری صفدرحسین ،سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور شہید چوہدری محمد اکثر کو اپنا سلام عقیدت پیش کیا پیر نقیب الرحمان نے دعا بھی کروائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں