چین نے 1.7ارب ڈالر کے مٹیاری لاہور منصوبے پر کام شرو ع کردیا

بیجنگ چین نے 1.7ارب ڈالر کے مٹیاری لاہور ہائی وولٹیج ٹرانسمشن لائن منصوبے پر ابتدائی کام شروع کردیا ہے اس منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنی نے اس مقصد کیلئے تمام ضروری آلات اور سامان پاکستان منتقل کردیا ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) فریم ورک کے تحت یہ ملک کا پہلا منصوبہ ہے فوشن الیکٹرک پورسیلین مینوفکچرنگ کمپنی نے ڈی سی660کلوواٹس ژنک اکسائیڈ لائٹننگ کولراس گرڈ منصوبے کیلئے پاکستان منتقل کردییہیں ،شن فو جو چین کے لیائوننگ صوبے کا نیا ضلع ہے کی پارٹی ورک کمیٹی کے رکن وانگ یو ژو نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کی اہم کمپنی ہے،جبکہ ڈی سی ٹرانسمشن منصوبہ بھی پاکستان کا پہلا بڑا منصوبہ ہے جس نے بجلی کی پیداوار اور تقسیم میںغیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھول دیے ہیں،لیائوننگ صوبے کے نئے ضلع شن فونے 57ملین یوآن سے زیادہ مالیت کا یہ منصوبہ مقابلے میں بولی کے ذریعے حاصل کیا تھا،شن فوبجلی کی پیداوار اور ترسیل پر خصوصی توجہ دے رہا ہے ،یو ژو کاکہنا ہے کہ فوشن الیکٹرک کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور دنیا بھر میںفعال کردار ادا کررہی ہے،کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں میں سرمایہ کارانہ جزبے کے ساتھ نمایاں ترقی کررہی ہے پاکستان میں اس منصوبے کی مکمل مالیت1.658ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ منصوبہ2021تک مکمل ہوکر کام شروع کردیگا۔یہ ملک کا پہلا نجی منصوبہ ہے جو سی پیک کے ذریعے مکمل کیا جارہا ہے اس منصوبے کے ذریعے کوئلے سے 4 ہزار میگاواٹس سے زیادہ بجلی پیدا ہوگی،جوسندھ سے مین گریڈ میں شامل کی جائے گی۔اس ٹرانسمشن منصوبے کے علاوہ پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ بھی حال ہی میں بجلی کے ایسے منصوبوں کی تکمیل میں سہولت فراہم کررہا ہے جوسی پیک کے ذریعے10934میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں،جن میں پانی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے بھی شامل ہیں سی پیک کے ذریعے پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے،جن میں زیادہ تر سرمایہ کاری پاکستان میں توانائی کے فروغ پیداوار اور نظام کو بہتر بنانے کیلئے کی جارہی ہے،توانائی، بنیادی ڈھانچے اور گوادر منصوبوں پر توجہ مرکوزکرنے کے علاوہ 9خصوصی انتظامی ژونز بھی سی پیک کے تحت مکمل کیے جارہے ہیں تاکہ غیر ملکی اور چینی سرمایہ کاری کے ذریعے صنعتی عمل کو بحال کیاجاسکے اور پاکستان کو ٹیکنالوجی منتقل ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں