یااللہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے درجات بلند فرما آمین

تحریر :۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی وفات کے دن پوری پاکستانی قوم بابائے قوم ” قائد اعظم محمد علی جناح “ کا یوم وصال بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتی ہے اور نئے جوش و جزبہ کے ساتھ یہ عہد کرتی ہے کہ فرمودات قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی روشنی میں ملک عزیز سے جہالت افلاس اور بھوک کا خاتمہ کر کے ملک و قوم کی بہتری کے لئے عملی اقدام کریں گئے مگر افسوس !
ہم نے ہر چیز اور ہر کام میں خلوص کی جگہ ” رسم “ کو اپنا لیا ہے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا یوم پیدائش ہو یا یوم وفات دیگر قومی ملی اور دینی دنوں کی طرح سج دھج کر دھواں دھار تقریں جلسے جلوس ریلیاں وغیرہ نکالتے ہیں ، ان سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا اور ان کی اہمیت کو نظر انداز کوئی باشعور اور محب وطن نہیں کر سکتا مگران سے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد نہیں ہوئے !
زیادہ نہیں بابائے قوم کے سیکڑوں میں سے صرف چند ایک فرمودات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہم نے بابائے قوم کے دئیے ہوئے سبق میں سے کچھ یاد کیا ہے اگر یاد کیا ہے تو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات پر کتنا عمل کیا ہے ۔ مثلاً
٭مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے
کراچی 28 دسمبر، 1947
٭دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی
لاہور30 اکتوبر،1947
٭ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی، بلوچی، بنگالی، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے۔
جون 15، 1948
٭ انصاف اور مساوات میرے رہنماءاصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔
قانون ساز اسمبلی 11 اگست، 1947
٭دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔
مسلم یونیورسٹی یونین 1944
٭ پاکستان کی داستان‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماءرہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔
چٹاگانگ 23 مارچ، 1948
٭یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیردیا جاناچاہئے۔(ڈھاکا 21 مارچ، 1948)
اے بابائے قوم ! ہم شرمندہ ہیں ہمیں معاف کر دے ہم نے تیری امانت جو اللہ کی نعمت اور محبوب خدا حضرت محمد ﷺ کی منظور نظر یاست ثانی مدینہ بنام اسلامی جموریہ پاکستان ہے اس کا جو ہم پر حق ہے وہ ادا نہیں کر سکے ۔ اے اللہ ہمیں اسلامی جموریہ پاکستان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے درجات بلند فرما آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں