بھنگ کے فوائد؟؟؟؟یا نقصانات؟؟؟ فیصلہ عوام پر

تحریر:حسیب آرائیں

نشے کے عادی افراد کے بارے میں میرے مختلف مشاہدات ہیں:
1. باتیں دلچسپ کرتے ہیں۔ لمبی لمبی پھینکتے ہیں۔
2. پانی سے ڈرتے ہیں۔ چھوٹے موٹے جوہڑ کو ڈیم سمجھتے ہیں۔
3. پولیس اور فوج سے بہت ڈرتے ہیں۔
4. لوگ ان کو بھیک دے دیتے ہیں لیکن قرضہ نہیں دیتے۔
مجھے چھوتھے پوانٹ پر دوست نے ٹوکا کہ اگر قرضہ لینے والا کوئی ہو تو لاکھوں ڈالر بھی مل جاتے ہیں۔
ویسے مجھے فخر ہے کہ کوئی اپنے بچوں کو قرآن پاک سے کتابوں سے یا جسمانی مشقت والی کھلیوں سے جوڑتے ہیں
مگر ہمارئے حکمران بھنگ کاشت کروا رہے ہیں اللہ پاک ان کا بھلا کرئے بہت سے نشہ بھنگ عادی افراد نے بھنگ کاشت کروانے والے افراد کو دعائیں دیں۔
ڈاکٹر کا دوست ڈاکٹر۔ وکیل کا دوست وکیل۔صاحب علم کے دوست صاحب علم نشیوں کے دوست نشی بھنگ کاشت کا فیصلہ بہت اعلی ہے اس سے ووٹ میں بھی کثرت سے اضافہ ہوگا کیونکہ نشیوں کا مانناہے پہلی بار کسی نے ہمارئے حق میں بات کی ہے اس ہی وجہ سے یہ لوگ آج سے ہی الیکشن کپمیں چلانے کا عہد کر چکے ہیں
بلکہ اک نشئی نے تو یہاں تک کہاکہ اب ملک تیزی سے ترقی کرئےگا پوچھنے والے نے پوچھا کیسی ترقی کرئےگا ملک جواب ملا پہلے بھنگ کی اجازت ملی پھر شراب کی ملے گی پھر ہیروین وغیرہ کی اسطرح ملک جلدی ترقی کرئے گا
اللہ تعالی نے انسان کی غذا اورتفریح ِ طبع کے لئے انہی چیزوں کو متعین اور حلال کیا ہے جو انسان کی روح اور جسم کو فائدہ دیتی ہیں اور جو چیزیں انسان کے روح اور اس کے جسم کے لئے نقصان دہ اور مضرت صحت ہیں انہیں حرام قرار دیا ہے،انسانی صحت کا رازحلال اور پاکیزہ غذاوئے میں مضمر ہے اسلام کی وضع کردہ غذائی قوانین پر عمل پیرا ہونے سے انسان کی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ قوی اور تندرست رہتا ہے، اور ساتھ ہی وہ مختلف متعدی امراض اورمہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، ہے مگرجن چیزوں کے بارے میں شریعت نے منع کیا ہے یاجن کے مفاسد یقینی اور واضح ہیں ان کا استعمال انسان کے لئے واقعی مضر اور نقصا ن دہ ہے چونکہ منشیات سے انسانی جسم وروح کے لئے بگاڑ وفساد کا سبب بنتا ہے بلکہ بسااوقات آدمی کی جان بھی چلی جاتی ہے اس بناپر منشیات کا استعمال شریعت کی رو سے حرام ہے۔مگر
بھنگ کا نام سن کر اکثریت کے ذہن میں بوٹی کا نام آتا ہے کیونکہ 95 فیصدیوں کے چھوٹے دماغوں کی سوچ بس ملنگ کی بوٹی سے آگے نہیں جاتی ان کی نظر میں بھنگ صرف اسی کام آتی ہے کہ کوئی بابا جی سے پوچھے کہ بابا جی ”تسی ایتھے بیٹھے ہو دنیا چاند پر پہنچ گئی” تو بابا جی بوٹی گھوٹتے ہوئے سر اوپر اٹھاتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں کہ میں بھی یہ پی کرپہنچنے والا ہوں اس کی مارکیٹ کم ہونی کی وجہ بہت سے ممالک میں اس پر پابندی ہے لیکن جیسے جیسے اس کے فوائد کا دنیا کو علم ہوتا جارہا ہے تو اس پر سے پابندی کھلتی جارہی ہے

اس پر پابندی کی بڑی وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے- لیکن میڈیکل فیلڈ میں بھنگ پر ریسرچ سے میڈیکل میں اس کے بے شمار فائدوں کی وجہ سے اب دنیا کا اس کے بارے میں نظریہ بدلتا جارہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی کنٹرولڈ کاشت اور کنٹرولڈ استعمالات کی اجازت دی جارہی ہے
بھنگ بنیادی طور پر ایک پودا ہے اس پودے کا پیرنٹ نام کینبز ہے- جو کہ 2 طرح کا ہوتا ہے ”کینبز انڈی کا ”اور دوسرا ”کینیبز سیٹی وا” ایک سے بھنگ نکلتی اور دوسرے سے چرس بھنگ کے پودے سے ایک کمیکل نکلتا ہے جس کو ہم اپنی کیمیکل کی زبان میں ٹی ایچ سی کہتے ہیں-یعنی اس کا پورا نام ٹیٹرا ہایئڈرو کینابینول ہوتا ہے- اور جب بھنگ کو دوسری نشہ آور اشیاءمیں تبدیل کیا جاتا ہے تو ان کو بناتے ہوئے بنیادی طور پراس میں اسی ٹی ایچ سی کی مقدار زیادہ کی جاتی یہ کیمیکل انجینئرنگ کی ایک سپیشلیٹی فیلڈ ہے
اسکا سب سے زیادہ استعمال جس سے بھنگ کو وجہ شہرت ملی وہ ہے بھنگ کو کشید کرکے اس کا تیل نکالا جاتا ہے جو کہ کینابز آئل کہلاتا ہے اور یہ کینابز آئل اعصابی کمزوری اور پٹھوں کی طاقت کے لیئے استعمال ہوتا ہے خصوصا جو لوگ معذور ہوں یا جن کے اعصاب اور پٹھے کمزور ہوں- اس کے علاوہ بھنگ کا استعمال کاسمیٹکس میں بھی ہورہا ہے جس میں لوشن، صابن شامل ہیں
پر مجھے ڈر ہے کہیں وہ وقت نا اجائے کہ لوگ مہمانوںچائے کی بجائےبھنگ کا پ پوچھیں اور پوچھیں بچے تیز ہی پیتے ہیں کہ ذرا ہلکی کروں
پہلے ہی ہمارئےملک میں نشہ وافر ہے ہر دوسرا شخص نشے میں مبتلا ہے بچے بھی چھپ کر سگریٹ نسوار چرس ہیروین آیس تک استمال کرتے ہیں اگر اس مسئلہ پر توجہ نا دی گی تو قوم کا بہت نقصان ہو سکتا ہے
بلکہ اب نشہ عورتوںیں بھی شروع کر چکی ہیں میں تو یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہا ہوں آنے والا مورخ کہیں الزام ہمارئے سر نا ڈال دئے کہ اپنے بچوں کو خود عادی بنا دیا تھا
ویسے حل طلب بات ہے بھنگ کی چند پتیاں تو دوائیوں میں استمال ہوگی باقی مانندہ پودئے سے کیا کریں گے
یہ کیسے ہو سکتا ہے پڑوس میں بھنگ کا باغ ہو اور نوجوان نسل اس کا استمال نہ کرئےخیر میرا دل چیخ چیخ کر کہ رہا ہے کچھ وڈیرئے شڈیرئےبھی کاشت بھنگ پر دعائیں دیتے ہوں گے
چلیں جی باقی باتیں تو اپنی جگہ پر نشئی افراد چوری راہ زنی کے بھی ماہر ہوتے ہیں جب نشہ کے لیے پیسہ نا ہو تو چوری کرتے ہیں

مگر اب بھنگیوں سے عوام بلکل نا ڈریں کیونکہ ڈائریکٹ یہ باغ سے ہی چوری کریں گے
مجھے خود بھی سمجھ نہں آرہی کہ میں نشہ آور اشیاءکے خلاف ہوں کہ حق میں ہوں مگر دل خون کے انسو رو رہا ہے جب میں آئیندہ نسل کے بچوں کے بارئےمیں سوچتا ہوں
بلکہ حکومت کو تمام تر مہکمانہ ٹیسٹ کروانے چاہیے جن کے بلڈ میں کسی بھی قسم کا نشہ ہو ان کو نوکری سے فارغ کر دینا چاہیے۔بات مرغی او رکٹے سے ہوتی ہوئی بھنگ پر فل حال ختم ہوئی مگر مجھے یہ کہانی اتنی آسانی سے ختم ہوتے نظر نہیں آرہی خیر
طنز کے طور پر کہ رہا ہوں کہ
پھر جب بھی میرئے دوست آیا کریں گے تو میں بھی دوستوں کوبھنگ پلایا کروں گا
لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے مگر پھر کبھی سہی اب اجازت چاہتا ہوں مگر یاد رہے اس کالم کا تعلق ملک پاکستان سے نہ ہے اور نا ہی پاکستانی عوام کے لیے لکھا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں