کوئٹہ نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر میر کبیر ا حمد محمد شہی نی کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام پر ہندوستانی جارحیت اوران کی شناخت کوختم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ

کوئٹہ نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر میر کبیر ا حمد محمد شہی نی کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام پر ہندوستانی جارحیت اوران کی شناخت کوختم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان اگر دنیا میںکشکول گھومتے وقت مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگرکرتے تو شاید مودی سرکار کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی جرات نہ کرتی معاشی اورخارجہ پالیسیوں کی کمزوری کی وجہ سے ہم اندرونی اور اندرونی مسائل کاشکار ہیں جو روزبروز بڑھ رہے ہیں ان خیالات کااظہارانہوںنے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیامیرکبیر نے کہاکہ ہمیں سب سے پہلے اپنی خارجہ پالیسی کو درست کرنے کی ضرورت ہے جو صرف پارلیمنٹ کی منظوری سے بنی ہو کہا جاتا ہے کہ ہندوستان، ایران اور افغانستان ملک کے اندر شورش پیدا کرنے کیلئے مداخلت کررہے ہیں آج بلوچ ناراض سندھی ناخوش اور پشتونوں کے تحفظات ہیںآخراس کی کیاوجوہات ہیں بلوچستان کا مسئلہ 1948 سے سیاسی ہے مگر اسے حل کرنے میں کوئی حکومت سنجیدہ نہیں ہوئی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے بحیثیت وزیراعلی بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بیرون ملک ناراض بلوچوں سے رابطہ کرکیمذاکرات شروع کیے جس کے مثبت نتائج آنے لگے تو بدقسمتی سے اس مرحلے کو دبا دیاگیا گزشتہ دنوںاسلام آباد کے ریڈ زون میں متنازع پوسٹرزنصب کیے گئے اگر بلوچستان کے کسی علاقے میں یہ پوسٹر لگتے تو بہت سے نوجوان لاپتہ اورکئی کی مسخ لاشیں برآمد ہوتیں انہوںنے کہاکہ ملک کیمسائل حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرکیسنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں ملک کی بقا جمہوری نظام کوطاقتور کرنیآئین وپارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے خارجہ اور داخلہ پالیسی مرتب کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں