مسئلہ کشمیر قومی سلامتی کونسل میں نیا نہیں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر پہلے سے ہی موجود ہے ، بھارتی اقدام سے خطے کی صورتحال ابتر ہو سکتی ہے

اسلام آباد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر قومی سلامتی کونسل میں نیا نہیں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر پہلے سے ہی موجود ہے ، بھارتی اقدام سے خطے کی صورتحال ابتر ہو سکتی ہے ، سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ اس ایشو کو زیر بحث لائے ، چین نے اقوام متحدہ میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ،روس نے بھی مسئلہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات سے حل کرنے کا کہا ہے۔ ہم بھی پر امن حل چاہتے ہیں لیکن بھارت اس سے فرار کا راستہ اختیار کر رہا ہے ، اقوام متحدہ میں جانے کی حکمت عملی کے لئے اعلیٰ سطحی مشاورت ہو رہی ہے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ سے ہماری ملاقات بروقت تھی ۔ چینی قیادت کو پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا ۔ جس پر انہوں نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مسئلہ کشمیر نیشنل سیکیورٹی کونسل میں نیا نہیں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر پہلے سے ہی موجود ہے ۔ بھارتی اقدام سے خطے کی صورتحال ابتر ہو سکتی ہے ۔ سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ اس ایشو کو زیر بحث لائے ۔ چین نے اقوام متحدہ میں حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ بھارت نے شملہ میں کہا تھا کہ دو طرفہ فیصلے ہونگے ۔ لیکن اب یکطرفہ اقدامات ہو رہے ہیں ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ غیر آئینی ہے ۔ کوئی اسے تسلیم نہیں کرتا ۔ کشمیریوں نے بھی اسے مسترد کیا ہے ۔ ہندوستان میں بھی بڑا طبقہ اس کو مسترد کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں جانے کا فیصلہ پاکستان کا ہے اور چین نے اس کی حمایت کی ہے ۔ لیکن لداخ کی تقسیم پر چین کو بھی اعتراضات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہیں تو وہاں دیگر بھارتی میڈیا کو جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ۔ مسئلہ کشمیر سے متعلق پوری دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے کہ کرفیو ہٹے گا کہ تو لوگ کس قسم کا اظہار کرتے ہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ روس نے بھی مسئلہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات سے حل کرنے کا کہا ہے۔ ہم بھی پر امن حل چاہتے ہیں لیکن بھارت اس سے فرار کا راستہ اختیار کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ میں جانے کی حکمت عملی کے لئے اعلیٰ سطحی مشاورت ہو رہی ہے تمام آپشنز زیر غور ہیں ۔ جس کے بعد تمام تجاویز وزیر اعظم کو پیش کرونگا ۔ ہمارے پاس ہیومن رائٹ کونسل اور آئی پی یو کا فورم بھی متحرک کرنے کا آپشن موجود ہے ۔ پوری دنیا میں مقیم کشمیریوں سے اپیل ہے کہ باہر نکلیں اور اپنی آواز بلند کریں ۔ ہم مسئلہ کشمیر کے لئے جو جو فورم استعمال کر سکتے ہیں وہ استعمال کرینگے ۔مسئلہ کشمیر قومی ایشو ہے ۔ اس پر حکومتی اور سیاسی قیادت کا فیصلہ متفقہ ہونا چاہیے ۔ اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر پر سیاست نہیں کرنی چاہیے یہ ملک کی خدمت نہیں ہے ۔ ہمیں اختلافات سے بالا تر ہونا چاہیے اور مسئلہ کشمیر پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں