امریکا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے،پاکستانی سفیر

واشنگٹن  امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے، امریکا نے واضح کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا، ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرنے کا اعتراف ہے،مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، کسی بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں،پاکستان کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جو خطے میں امن کے لیے خطرہ بنے۔ ایک انٹرویو میں امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے انٹرویو میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے، بھارت نے یکطرفہ طورپر کشمیرکی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں مکمل طور پرلاک ڈان ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں فوج کی تعداد میں حالیہ اضافہ کیا، 12ملین کشمیریوں پر9 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے، بھارت نے مقبوضہ وادی کودنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے۔امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر ڈاکٹراسد مجید خان نے کہا کہ امریکا سمیت عالمی برادری کشمیرکو متنازع علاقہ تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا موقف ہے مسئلہ کشمیرکا حل درکار ہے۔اسد مجید خان نے کہا کہ امریکی صدرنے وزیراعظم کی موجودگی میں ثالثی کی پیشکش کی، مسئلہ ہوتو تب ہی ثالثی کی پیشکش کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی ہے، کشمیر پربھارتی اقدام عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکا میں ہرطرح سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جا رہا ہے، سفارتی ذرائع کے ذریعے مسئلہ کشمیر پر امریکا سے کوششیں جاری ہیں۔اسد مجید خان نے کہا کہ امریکی میڈیا کی نیوزکوریج میں حالیہ بھارتی اقدام پرتنقید ہوئی، دنیا کی توجہ ایک بار پر پھر کشمیر کی طرف مبذول ہوگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے بغیرکسی مسئلے کا حل ممکن نہیں، ہم مسئلہ کشمیرپرمذاکرات کے لیے تیارتھے اورتیار ہیں۔۔خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا اور ساتھ ہی مقبوضہ وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر کے حریت رہنماں سمیت 600 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار یا گھروں میں نظر بند کر دیا ہے۔پاکستان اور چین نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ حکومت پاکستان نے معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں