حج اہم اسلامی فریضہ ہے ،اسکو آسان بنانا ،اہم فریضے کی حفاظت بطور مسلمان ہم سب پر فرض ہے،پیر نورالحق قادری

کوئٹہ( این این آئی)وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے کہا کہ حج ایک اہم اسلامی فریضہ ہے اس کو آسان بنانا اور اس اہم فریضے کی حفاظت بطور مسلمان ہم سب پر فرض ہے ہر سال پوری دنیا سے تقریباً تیس لاکھ کے قریب مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کرتے ہیں اللہ کے فضل سے ملائیشیاء کے بعد دوسرے نمبر پر پاکستان سے زیادہ حجاج کرام حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور و بین الامذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے بدھ کو کوئٹہ میں حج مشاورتی ورکشاپ پالیسی 2020ء کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور وفاقی وزیر گزشتہ دنوں سعودی حکام سے حج کے سلسلے میں ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر حجاج کرام کی سہولت کے لئے ملک کے چاروں صوبوں میں مشاورتی ورکشاپ منعقد کئے اس سلسلے میں پرائیویٹ حج آرگنائزر سے تجاویز لئے ہیں انہوں نے کہا کہ امسال کوئٹہ کے حجاج کرام حج اخراجات چار لاکھ اسی ہزار روپے ہونگے۔ مہنگائی کی وجہ سے حج اخراجات میں معمولی سا اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام سے مسلسل یہ ایجنڈا رکھ دیا ہے کہ ہمارے حجاج کرام زیادہ اخراجات کی وجہ سے حج جیسا مقدس فریضے سے رہ جاتے ہیں۔حج اخراجات کا ابتدائی تخمینہ تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار لگایا تھا گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے اس سلسلے میں تفصیلی ملاقات ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نے سختی سے ہدایت دی کہ حج اخراجات پانچ لاکھ سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ زیادہ اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہے اس سلسلے میں جتنا ہوسکے کوشش کریں حج اخراجات کو کم کیا جائے۔ اس سلسلے میں وزارت کے افسران نے بہت محنت کے ساتھ حج اخراجات کم کرنے کا تخمینہ لگایا اور اسی بات پر اتفاق ہوا کہ حج اخراجات چار لاکھ اسی ہزار اور چار لاکھ نوے ہزار ہونگے۔ پیرنورالحق قادری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی شروع دن سے کوشش یہی رہی ہے کہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور جہاں تک ممکن ہو عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں اور یہی کوشش اس بار بھی کررہے ہیں کہ حجاج کرام کے مسائل کم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بھی پانچ ارب پچاس کروڑ روپے حجاج کو واپس کردیئے گئے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال بھی کوئٹہ سے ڈائریکٹ فلائٹس چلائی جائے گی پچھلے سال بھی ہماری حکومت نے کوئٹہ سے ڈائریکٹ فلائیٹس واپس بحال کی تھی سابقہ دور میں کوئٹہ کے حاجیوں کے لئے کافی مشکلات درپیش ہوتی تھی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے بھی اپنی وزارت کے حکام کو صاف بتایا ہے کہ حاجیوں کی سہولیات کے لئے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ شکایت کی صورت میں میں اپنی وزارت کے حکام کے ساتھ نہیں بلکہ حجاج کرام کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ پرائیویٹ حج کمپنیاں بھی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں اور حجاج کرام کے لئے مدینہ شریف اور مکہ شریف میں حج کے دنوں میں قیام و طعام میں بہتری لائیں اور حجاج کرام کو سہولیات فراہم کریں۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں آپ کے ساتھ ہمیشہ تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کے لئے مکینزم تیار کررہے ہیں کیونکہ مانیٹرنگ نہایت ہی ضروری ہے۔ مانیٹرنگ کے بغیر مشکلات حل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کے لئے بہترین تربیت کا اہتمام کریں گے تاکہ اس اہم دینی فریضے کی ادائیگی اسلامی قوانین اور احترام کے اندر ہوں۔ بہترین تربیت سے ہی وہ بہترین حاجی بن سکتے ہیں کیونکہ حجاج ایک ملک کے سفیر بن کر جاتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کو یہ تربیت ہو کہ وہاں دوستوں کے ساتھ کیسا رہنا ہے۔ غیرملکیوں کے ساتھ کیسا سلوک رکھنا ہے۔ حج کے دوران خاص دنوں میں مشکلات کو کیسے برداشت کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے نے روایتی پگڑی اور شال پہنانے پر پرائیویٹ حج ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کے ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور دائود بڑیچ بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں