یورپی یونین کی شام پر حملوں کیبعد انقرہ پر پابندی لگانے کی دھمکی

برسلزیورپی یونین نے شام میں ترک حملوں کے بعد انقرہ پر پابندی لگانے کی دھمکی دے دی، انقرہ پر مزید دبائو ڈالنے کے لیے 14 تاریخ کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے،یوپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پناہ گزینوں کو بطور ہتھیار اور بلیک میل کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا،اٹلی کے وزیراعظم جوزپیے کونٹے نے ترک صدر پر بلیک میل کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ عسکری آپریشن فوری طور پر ختم کردینا چاہیے۔فرانس نے بھی ترکی پر اقتصادی پابندیاں کی تجویز پیش کی،یورپی یونین کے حکام نے بتایا کہ یورپی یونین ترکی میں شام کے پناہ گزینوں پر 6 ارب 63 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کررہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین نے شام میں ترک حملوں کے بعد انقرہ پر پابندی لگانے کی دھمکی دے دی۔دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ادوغان نے خبردار کیا کہ اگر انقرہ سے تعاون نہیں کیا گیا تو وہ 36 لاکھ پناہ گزینوں کو یورپ میں داخل ہونے کے لیے دروازہ کھول دیں گے۔ برسلز میں یورپی یونین کی حکومتوں نے پہلے بھی ترک صدر کے اس بیان کی مخالفت کی تھی جس میں انہوں نے پناہ گزینوں کو یورپ میں داخل کرنے کا کہا تھا۔یوپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پناہ گزینوں کو بطور ہتھیار اور بلیک میل کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر کی دھمکی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔اٹلی کے وزیراعظم جوزپیے کونٹے نے ترک صدر پر بلیک میل کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ عسکری آپریشن فوری طور پر ختم کردینا چاہیے۔فرانس نے بھی ترکی پر اقتصادی پابندیاں کی تجویز پیش کی۔اس ضمن میں سویڈن کی پارلیمنٹ نے اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب انقرہ پر مزید دبائو ڈالنے کے لیے 14 تاریخ کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں یونان اور قبرص نے جنوبی قبرص میں گیس کے لیے ڈرلنگ کے تنازع پر انقرہ پر اقتصادی پابندی کا مطالبہ کیا۔ایک حکام نے بتایا کہ یورپی یونین ترکی میں شام کے پناہ گزینوں پر 6 ارب 63 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں