بھارت‘ شہریت بل کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری، شمال مشرقی ریاستوں میں نظام زندگی درہم برہم

تریپورہ ،آسام(این این آئی)نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتاپارٹی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے پاس کیا جانے والا شہریت( ترمیمی) بل کے خلاف ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں زبردست مظاہروں کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے ۔ ریاست تریپورہ میں تمام قبائل پر مبنی علاقائی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں، طلباء فیڈریشنوں کے اعلان پر گزشتہ تین روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہروں کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہیں، ٹرینوں کی آمد ورفت بندہیں۔ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں جبکہ مختلف سرکاری دفاتر اور بازار بھی بند ہیں۔آسام کے شہر گوہاٹی میں آج(جمعرات)لوگ کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست مظاہرے کیے ۔ آسام کے بہت سے شہریوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنمائوں کے گھروں پر حملے بھی کیے گئے ۔ نجی ہوائی کمپنیوں نے آسام اور دیگر شمال مشرتی ریاستوں کیلئے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں ۔یاد رہے کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا بل بھارتی ایوان بالا راجہ سبھا نے بھی 105کے مقابلے یں 125ووٹوں سے منظور کرلیا ہے۔ اس بل سے اب پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھارت آنے والے تمام شہریوںکو سوائے مسلمانوںکے شہریت ملنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ادھر کانگریس کے سینئر رکن اور سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے لوک سبھا میں تقریر کے دوران شہریت (ترمیمی ) بل کو پوری طرح سے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں