پولیو ایک خطر ناک مرض ہے کوئی بھی قطرے پینے سے نہ رہ جائے مراعات ملے یانہ ملے انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانا ہے کمشنر ژوب ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ

لورالائی13دسمبر: ۔کمشنر ژوب ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ کہ پولیو ایک خطر ناک مرض ہے کوئی بھی قطرے پینے سے نہ رہ جائے مراعات ملے یانہ ملے انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانا ہے ہمیں ایک ذمہ داری ملی ہے ہر ایک اپنی ذمہ داری کا احساس کر یں ہر ڈپٹی کمشنر مہم سے پہلے ریفریشر کورس اور سکورٹی کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا کریں ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو مہم کے اجلاس کے موقع پر کیا ۔اس موقع پرایڈیشنل کمشنر محمد ایوب ، ڈپٹی کمشنر لورالائی اسد اللہ کا کڑ ،ڈپٹی کمشنر دکی قربان علی مگسی ،ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران ،پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایمز اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی۔ نمائندہ ڈبلیو ایچ او نے اجلاس میں بتا یا کہ ژوب ڈویژن پولیو کے حوالے سے حساس ہے 2015 اور 16میں ضلع دکی اور 2014 اور 17 میں ژوب میں کیسز ہوئے اور لورالائی اورژوب میں سیوریج کے پانی میں بھی پولیو وائرس کے آثار ملے ہیں جس کی وجہ سے مہم پر خصوصی توجہ دینا ہے انہوں نے گذشتہ مہم کی کارکردگی ،سروے رپورٹ اور سہولیات کے بارے تفصلات بھی بتائے۔ کمشنر ژوب ڈویژن نے شرکاء سے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے مل کر مہم کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے انہوں نے کہ باہر کے لوگ ہمیں اس حوالے سے امداد دیتے ہیں اور پولیو کی وجہ سے بیرونی ملکوں میں ہماری شہریوں کی تذلیل بھی ہوتی ہے اور ویکسین کرنا پڑتا ہے اس لئے ہمیں ہنگامی بنیاد پر مہم میں کام کرنا چائیے انہوں نے کہا کہ اگر چہ پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے لیکن اس میں کمی ضرور آئی ہے لیکن حکومت انھیں مکمل ختم کر نے کی بھرپور کوشش کررہی ہے اور اسی لئے بار بار مہم چلائی جاتی ہے انہوں کہ جس نے بھی مہم بہتر کارکردگی دکھائی انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے گا اور جس نے لاپروائی کی انھیں سزا دیں گے کمشنر نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر کنٹرول روم فعال رکھیں اور ایوننگ اجلاس میں ہر یوسی کی کارکردگی پر نظر ڈالیں جہاں بھی کوتاہی ملے اس کے خلاف کاروائی کریں اور جو بھی کسی علاقے میں جاتاہے اس کے پاس ویکسین موجود ہوں تاکہ کہیں پہ کوئی بچہ مس ہو گیا ہو اسے ْقطرے پلائے اور کوئی بھی ٹیم سکورٹی کے بغیر نہ ہو اور ہر ٹیم کے پاس کنٹرو ل روم اورفوکل پرسن کے رابطہ نمبر ہو اور جہاں پر ایف سی کی ضرورت وہاں ان سے مدد لیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں