وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس ،بچوں سے متعلقہ جرائم کی موثرروک تھام کے لئے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بچوں سے متعلقہ جرائم خصوصاً جنسی استحصال کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس، بچوں سے متعلقہ جرائم کی موثرروک تھام کے لئے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اوروزارتِ داخلہ میں نیشنل کرائم ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بچوں سے متعلقہ جرائم خصوصاً بچوں کے جنسی استحصال کی موثر روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود، وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، صوبائی آئی جیز اور وزارتِ داخلہ و صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسران شریک ہوئے ۔ وزیرِ اعظم کو ملک میں بچوں کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی استحصال، بچوں سے متعلقہ فحش مواد، حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چند افسوس ناک واقعات اور ایسے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے انتظامی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب نے اجلاس کو زینب کیس، چونیاں کیس اور راولپنڈی کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق، صوبہ پنجاب میں بچوں سے متعلقہ جرائم کی شرح اور قصور اور چونیاں جیسے اندوہ ناک واقعات کو کیس اسٹڈی کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے انکی موثر روک تھام کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اجلاس میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے قانونی، سماجی و معاشرتی، اقتصادی و دیگر عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اوران واقعات و جرائم کی روک تھام کے حوالے سے وفاق اور صوبائی سطح پر اب تک لیے جانے والے اقدامات پر غورکیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایسے سنگین جرائم اور بچوں کی گمشدگی کے واقعات کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ڈی این اے رپورٹس کے جلد حصول کے لئے نظام کو بھی مزید منظم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان کی ہدایت کے مطابق اپنا بچہ اپلی کیشن تیار کی جا چکی ہے تاکہ گم شدہ ہونے والے بچوں کی فوری رپورٹ تمام آئی جیز اور سینئر حکام تک پہنچائی جا سکے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ معاشرے کے مستقبل کے خلاف جرائم اور خصوصاً معصوم بچوں کا جنسی استحصال پورے معاشرے کے لئے باعث شرم اور افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشرتی عوامل اور مختلف مجبوریوں کے باعث اکثر والدین ایسے جرائم کی پولیس کو بر وقت اطلاع یا مقدمات کے اندراج سے احتراز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جہاں ایسے جرائم میں ملوث مجرمان قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں وہاں متاثرہ بچوں اور بچیوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ داخلہ میں جرائم کے حوالے سے اور خصوصاً بچوں سے متعلقہ جرائم میں ملوث افراد کا قومی سطح پر نیشنل کرائم ڈیٹا بیس مرتب کیا جائیگا،یہ ڈیٹا بیس وفاق اور صوبائی حکومتوں کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دستیاب ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور معاونت سے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دی جائے تاکہ جہاں بچوں سے متعلقہ فحش مواد کے خلاف قومی سطح پر کریک ڈاؤن شروع کیا جا سکے وہاں ایسے جرائم کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرزکو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی جا سکیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ سائبر کرائمز سے متعلقہ مقدمات اور شکایات کا جلد از جلد ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قوانین کو مزید موثر کرنے کے لئے بھی سفارشات پیش کی جائیں تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو قرارواقعی سزا دی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بچوں سے متعلقہ جرائم کے مقدمات کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے اور متاثرہ بچوں اور انکے خاندانوں کو کسی رسوائی یا دقت سے بچانے کے لئے بھی سفارشات پیش کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ روک تھام اور تحفظ سے متعلقہ اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم سے متاثرہ بچوں کی بحالی کے پہلو پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ اور انکو جنسی جرائم سے محفوظ رکھنے کے لئے سول سوسائٹی اور خصوصاً میڈیا بھرپور کردار ادا کرے تاکہ جہاں بچوں کو انکے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے وہاں بچوں کے والدین اور کمیونٹی کی سطح پراس ضمن میں زیادہ آگا ہی اور شعوربیدار کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں