کراچی جیسی کوسٹل بیلٹ والا ملک قرضے لینے والا نہیں دینے والا ہوتا ہے،علی زیدی

کراچی (این این آئی)وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ ہم نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بڑی چیزوں کا نقصان اٹھایا، کراچی جیسی کوسٹل بیلٹ جس ملک کے پاس موجود ہو وہ ملک قرضے لینے والا نہیں دینے والا ہوتا ہے۔کراچی میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ آئی ایم او نیشنل سیمینار ہانگ کانگ کنونشن کا انعقاد شپ بریکنگ انڈسٹری اور شپ انڈسٹری کے لیے اہم ہے۔ ہم شپ بریکنگ انڈسٹری میں پہلے نمبر پر تھے اب چوتھے نمبر پر چلے گئے ہیں۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بڑی چیزوں کا نقصان اٹھایا، بنگلہ دیش میں کپاس پیدا نہیں ہوتی لیکن وہ ٹیکسٹائل میں کئی گنا زیادہ برآمدات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کنونشن پر اگر ابھی دستخط ہوگئے تو ہم شپ بریکنگ انڈسٹری میں 4 نمبر سے بھی مزید نیچے گر جائیں گے۔ یہ کنونشن شپ بریکنگ انڈسٹری کے لیے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد کا ہے۔ کچھ برس پہلے تحفظ پر عملدرآمد نہ کرنے سے گڈانی پر شپ بریکنگ میں کئی قیمتی انسانی جانوں کا نقصان اٹھایا۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی جیسی کوسٹل بیلٹ جس ملک کے پاس موجود ہو وہ ملک قرضے لینے والا نہیں دینے والا ہوتا ہے، شپ بریکنگ انڈسٹری میں بہتری لانا ایک چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی چیلنج سے گبھرانا نہیں ہے۔ پہلے ادوار میں نئے ڈریجر خریدے گئے جو کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔ نیب میں ان کی انکوائری بھیج چکا ہوں، بغیر استعمال ہوئے کئی بار ان کے پرزے امپورٹ کروائے گئے۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہر جگہ پر ریگولیشن لانے کی ضرورت ہے، شپ بریکنگ اور میری ٹائم میں ریگولیشن لا رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہیں، کسی ماں باپ کو اچھا نہیں لگتا جب بچے کو انجکشن لگتا ہے۔ ہمیں بچے کے مستقبل کے لیے یہ تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کی استعداد کار بڑھانا ہوگی، 10 سال میں پہلی بار فشریز کے ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی گئی۔ ماضی میں ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی جاتی رہی۔ ماہی گیری کے شعبے میں 2 ارب ڈالر تک برآمدات بڑھائی جاسکتی ہے۔ میری ٹائم شعبے میں کئی اصلاحات لا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں