کرپشن کر نے والے فوج سے ڈرتے ہیں ، میں کرپٹ نہیں ، فوج میرے ساتھ کھڑی ہے ، وزیر اعظم

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جو کرپشن کرتے ہیں انہیں فوج کا ڈرہوتا ہے،میں کرپٹ نہیں اس لئے فوج میرے ساتھ کھڑی ہے ، مولانا فضل الرحمن کے بیان پر آرٹیکل 6کا مقدمہ ہونا چاہیے ،تحقیقات ہونی چاہئیں کہ مولانا فضل الرحمن کو کیس نے یقین دہانی کرائی ہے ؟، حکومت کہیں نہیں جارہی،اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ،آٹا بحران کی ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں،الیکشن اصلاحات کیلئے قوانین لارہے ہیں جس کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیو میٹرک سسٹم کو لازمی قرار دیں گے، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا حکومت کی بڑی کامیابی ہے، اپنا سارا خرچہ خود برداشت کرتا ہوں، دنیا میں سب سے کم وزیراعظم کی تنخواہ میری ہوگی، ٹی وی چینلز سے سب سے زیادہ فائدہ میں نے اٹھایا، ڈیڑھ سال سے میرے اوپر ذاتی حملے کیے گئے، میڈیا میری ذات پر اٹیک کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، میڈیا جب ملک پر اٹیک کرتا ہے تو مسئلے ہوتے ہیں،ملک میں پٹواری اور تھانیدار کی کرپشن سے اتنا مسئلہ نہیں ہوتا،حکومت عدالت سمیت کسی بھی ادارے کے امورمیں مداخلت نہیں کر رہی۔ جمعہ کو وزیراعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آٹا بحران کی ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں، آٹا، چینی گندم کی تحقیقاتی رپورٹ اعتراض لگا کر واپس کردی اور دوبارہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی،اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی پہلے دن سے اپوزیشن شور مچارہی ہے اور ہمیں کامیاب نہیں دیکھنا چاہتی، اپوزیشن حکومت جانے کی باتیں صرف اپنی پارٹی کو اکٹھا کرنے کیلئے کرتی ہے، اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ان کی دکان بند ہو جائیگی اور جیل چلے جائیں گے، یہ سیاسی مافیا ہے ان کو مہنگائی کی نہیں اپنی ذات کی فکر ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اس لیے جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں اس لیے فوج میرے ساتھ کھڑی ہے، حکومت اور فوج میں کوئی تناؤ نہیں۔عمران خان نے کہا کہ (ن )لیگ، پیپلزپارٹی کے دور میں بجلی کے مہنگے کنٹریکٹ کیے گئے، آدھی قیمت پر گیس فراہم کی جارہی ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں سب سے بڑا چیلنج ہے، فیصلہ کرلیا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا، اس حوالے سے آئی ایم ایف کیساتھ معاملات طے پائے جائیں گے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر وزیراعظم نے کہاکہ مولانا نے کہا وہ کسی کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے، یہ غداری ہے ان کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے معلوم ہونا چاہیئے کہ مولانا فضل الرحمان کو کس نے یقین دہانی کرائی ہے۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ الیکشن اصلاحات کیلئے قوانین لارہے ہیں جس کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیو میٹرک سسٹم کو لازمی قرار دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے نہیں ہوں گے اور شو آف ہینڈز سے سینیٹ الیکشن کا قانون لائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عدالت سمیت کسی بھی ادارے کے امور میں مداخلت نہیں کر رہی، کرپٹ لوگوں سے ریکوری کرنا ہمارا، عدالتوں اور احتساب کے اداروں کا کام ہے۔عمران خان نے کہا کہ معاشی طور پر بدحالی میں گزشتہ دس سال کا بہت بڑا کردار ہے، زرداری اور نوازشریف کے دور میں ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہوئی، (ن )لیگ نے جتنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے وہ دو دن کے لیے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا حکومت کی بڑی کامیابی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19.5 سے کم کرکے 2.5 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں ڈیفالٹ کر جاتے تو ڈالر 225 روپے کا ہوجاتا، سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے مدد کی۔انہوں نے کہا کہ میرا میڈیا سے 40 سال کا تعلق ہے، مشرف کو میں نے مشورہ دیا تھا کہ ٹی وی چینلز کو کھولیں، ٹی وی چینلز سے سب سے زیادہ فائدہ میں نے اٹھایا، ڈیڑھ سال سے میرے اوپر ذاتی حملے کیے گئے، کون سے جمہوری ملک میں وزیراعظم کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے، میڈیا میری ذات پر اٹیک کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، میڈیا جب ملک پر اٹیک کرتا ہے تو مسئلیہوتے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ جو تنخواہ ہے اسی پر گزارا کر رہا ہوں، میں اپنا سارا خرچہ خود برداشت کرتا ہوں، دنیا میں سب سے کم وزیراعظم کی تنخواہ میری ہوگی۔ ایک سوال پرانہوںنے کہاکہ ملک میں ہر جگہ کارٹل ہے جو قیمتوں کو کنٹرول کرتا ہے، مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت مزید نہیں بڑھا سکتے، بجلی کی قیمت سے متعلق آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں پرچی والا پارٹی سربراہ نہیں، 22 سال جدوجہد کر کے اس مقام پر پہنچا ہوں، مجھ سے زیادہ لڑنا کوئی نہیں جانتا۔ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ ملک میں پٹواری اور تھانیدار کی کرپشن سے اتنا مسئلہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ حکومت عدالت سمیت کسی بھی ادارے کے امورمیں مداخلت نہیں کر رہی، کرپٹ لوگوں سے ریکوری کرنا ہمارا عدالتوں اور احتساب کے اداروں کا کام ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بطور وزیراعظم مجھے جعلی خبر پر پیمرا سے انصاف نہیں ملا ہے۔ایک سوا ل پر انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں سب سے بڑا چیلنج ہیں، نون لیگ، پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کے مہنگے کنٹریکٹ کیے گئے، ہماری حکومت میں آدھی قیمت پر گیس فراہم کی جارہی ہے۔ایک سوا ل پر انہوںنے کہاکہ معیشت نے سر اٹھایا تو مولانا فضل الرحمان کا دھرنا آگیا جس نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا۔ ایک سوا ل پر عمران خان نے میڈیا پر غیر ذمہ داری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک اخبار نے خبر لگائی کہ حکومت سی پیک پر نظرثانی کررہی ہے، اس خبر سے پاک چین تعلقات خطرے میں پڑ گئے تھے، اپنی ذات کی پرواہ نہیں تاہم غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے ملک کو نقصان نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی اور ہوتا میڈیا کو اتنے جرمانے ہوتے کہ چینلز بند ہو جاتے۔عمران خان نے انتظامی امور میں مبینہ عدالتی مداخلت سے متعلق کہا کہ کسی کے خلاف ایکشن لو تو وہ عدالت سے سٹے لے لیتا ہے، پی ایم ڈی سی کو ختم کیا تو عدالت نے بحال کردیا، پی ایم ڈی سی اگر درست کام کرتا تو 5 ہزار پاکستانی ڈاکٹرز کی ڈگریاں منسوخ نہ ہوتیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں