بنت حوا اُور ہمارا معاشرتی کردار

تحریر: عمران امین

خدا نے اس کائنات کو بناتے وقت یہ ضرور سوچا ہوگا کہ ایک جنت میں نے آسمان پر بنا دی ہے جبکہ دوسری جنت میری پیدا کردہ مخلوق اپنی دھرتی پر سجا دے گی ۔ویسے معصوم فرشتوں نے اپنی فہم و عقل کے مطابق خالق رب العالمین کے حضوراپنے خدشات ظاہر کر دئیے تھے مگرچونکہ اللہ تعالیٰ کا علم سب سے زیادہ جامع اُور مکمل ہے لہذا فرشتوںکے اس اعتراض کو رد کر دیا گیا اُور یوں شیطان کو انسان کا کھلا دشمن بنا کر اللہ تعالیٰ نے انسانی آزمائش کا تا قیامت جاری رہنے والا سلسلہ شروع کر دیا۔ حضرت آدم و حوا کی جنت بدری کی کہانی ہمارے لیے ایک سبق ہے،ہابیل اُور قابیل کی چپقلش اُور لڑائی ہمیں شیطان کی فتنہ انگیزی کا پتا دیتی ہے جبکہ انسان کا ابتدائے کائنات سے اب تک کا رویہ اُور طریقہ کار اللہ کے بنائے ہوئے منصوبے کی بھرپور نفی کرتا نظر آتا ہے۔شروع دن سے حیوانیت و فرعونیت میں ڈوبا یہ چند فٹ کا جھوٹی انا اُور خودی والا خاکی پتلا اپنے خالق کی عائد کردہ ذمہ داریوں سے انحراف کرنے میں فخر محسوس کرنے لگا اُوررفتہ رفتہ اُس کے قول و فعل کے تضاد نے اس دھرتی کو جہنم کی شکل دے دی۔اللہ نے اس کائنات میں زندگی کو آباد کرنے کے لیے انسان نامی مخلوق کو دو جنسوں،عورت اُور مرد میں پیدا کر کے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو چندحدود وقیود کے اندر رہ کر ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ یہ بھی بتا دیا کہ مرد اُور عورت ایک دوسرے کی زینت ہیں ۔

مگر افسوس مرد وں نے کمال مہارت سے عورتوں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش میں اس جنس کے گلے میںذہنی غلامی کا طوق اتنی خوبصورتی سے ڈالا کہ عورت نے اس کو اپنا مقدر اُور نصیب سمجھ کر قبول کر لیا۔ اُصول یہ طے پایا کہ مردوں کے اس معاشرے میں بد سیرت مرد صرف ایک غسل سے پاک ہو جاتا ہے جبکہ مظلوم عورت ساری زندگی کے لیے بے آبرو ہو جاتی ہے۔اس بات میں کوئی بھی شک نہیں کہ شہر بھر کی زلیخاﺅں کو نصیحت کرنے والے بہت سے ہیں مگراے کاش کوئی میرے شہر کے یوسفوں سے بھی کہہ دے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔یاد رکھیں!عورت کو عزت دینا ،اُس کو خوبصورت کہنے سے کہیں زیادہ خوبصورت بات ہے ۔ عام طور پر عورتوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی کا راز نہیں رکھ سکتی لیکن حقیقت مختلف ہے اگر عورت کو راز رکھنا نہ آتا ہوتو کوئی بھی مرد سر اُٹھا کر نہ جیتا۔پچھلے دنوں موٹر وے میں ایک عورت کے ساتھ بد سلوکی کے واقعہ نے سارے ملک کو اپنی زد میں لے رکھا ہے۔ سب لوگ اس درندگی اُور ہوس پرستی پر چیخ اُٹھے ہیں۔معاشرے میں پھیلتی بے رحمی اُور سنگ دلی تو بہت پہلے سے ہی عیاں ہو چکی تھی مگر اس واقعہ میں حیوانیت اُور درندگی کا عنصر اس قدر شامل ہیں کہ اب اہل علم اُور ارباب اختیار کو قوم کی ذہنی حالت کے سدھار کے لیے فوری عملی اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔سوچیں !وہ خاتون کیا خواب لے کر فرانس سے نئے پاکستان میں آئی ہو گی، نئے پاکستان میں قانون کی پاسداری کے حکومتی دعویٰ پر یقین کر نا،دیار غیر کی سہولتوں کو خیر آباد کہنا ۔اُف !کس قدر مہنگی قیمت ادا کرنا پڑی؟،یہ تو اُس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ریاست مدینہ میں ایسا ہوگا اُور رہی سہی کسر سی سی پی او لاہور نے نے اپنی دکان کھول کر پوری کر دی۔ ”شہرت اُورہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو“۔پولیس نے شدیدعوامی دباﺅ کے تحت فوری پیش رفت دکھاتے ہوئے دو ملزمان کی نشاندہی کی ہے اُن میں سے ایک عابد عادی مجرم ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عابد نامی ملزم جس نے سات سال پہلے بھی پورے خاندان کے سامنے ماں اُور بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی تب وہ کیسے سزا سے بچ گیا اُور رہا کر دیاگیا۔ اگراُس وقت وہ سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا تو کیاموٹر وے والا واقعہ رونما ہوتا؟

مگر افسوس ہمارے بے رحم اُور سست عدالتی نطام میں سینکروں لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے راﺅ انوار کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے،ٹریفک پولیس وارڈن کو گاڑی سے کچلنے والے ایم پی اے عبدالمجید اچکزائی کے خلاف ثبوت نہیں ملتے،مشہورزمانہ سانحہ ساہیوال میں ملوث ملزمان کے خلاف پورے ثبوت موجود ہیں مگر شک کی بنیاد پر رہا کر دئیے جاتے ہیں،سرفراز قتل کیس میں عدالت کی طرف سے سزا ہونے کے بعد صدر مملکت رینجرز اہلکاروں کی سزا کو معاف کر دیتے ہیں،معروف ماڈل ایان علی کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجودرہا کر دیا جاتا ہے، ریمنڈ ڈیوس کو ریاست چھوڑ دیتی ہے،ملعون آسیہ کیس کا فیصلہ یکدم بدل دیا جاتا ہے،نواز شریف اُور پرویز مشرف کو انتہائی سنگین مقدمات کے باوجود ضمانت مل جاتی ہے ۔ اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے جہاں با اختیار اُور دولت مند افراد کو جرم کرنے کے باوجود چھوڑ دیا جاتا ہے مگر نادار اُور غریب کو چھوٹے چھوٹے جرائم میں سالوں عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔یہاں امیروں اُور سیاست دانوں کی شراب شہد میں تبدیل ہو جاتی ہے جبکہ مظلوم اُور بے گناہ بھائیوں کو جیل میں پھانسی لگنے کے ایک سال بعد عدالت باعزت بری کرنے کا آبرمندانہ فیصلہ سناتی ہے ۔ان سب سوالات کا جواب دینا، ہمارے نظام عدل پرفرض ہے۔یاد رکھیں!ممکن ہی نہیں کہ شب الم کی سحر نہ ہو،رب کائنات کہتا ہے” فان مع العسر یسرا“بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔اب بھی وقت ہے کہ ہمارے سوئے ہوئے حکمران اپنی ریاستی اُور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے نظام عدل میں مناسب تبدیلیاں لا کر ایک متحرک اُور فوری انصاف والا نظام قائم کریں تاکہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی اُور فلاحی معاشرہ بن سکے جہاں سب کی عزت محفوظ ہو،فوری اُور سستا انصاف ملتا ہو، مظلوم کی دادرسی ہو اُور ظالم کو کیفر کردار پہنچایا جاتا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں