بلدیاتی انتخابات۔۔ماضی، حال مستقبل؟

تحریر: الیاس محمد حسین

آج کل بلدیاتی ا دارے معطل ہیں اس لئے بلدیاتی نظام پر عملاً افسرشاہی کا قبضہ ہے ۔ جب تحریک ِ انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی تو خیال تھا فوراً لوکل باڈیز الیکشن کے انعقادکااعلان کیا جائے گا لوگ خوش تھے کہ اب گلی گلی کوچے کوچے رونقیں بحال ہوجائیں گی اب چونکہبلدیاتی انتخابات کروانے کےلئے حکومتی اعلانات ہورہے ہیں نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے باوجود حکومت سنجیدہ ہوتو بلدیاتی انتخابات اسی سال ہوسکتے ہیں ورنہ عوام اپنے مسائل کے حل کےلئے بیوروکریسی کے محتاج توہو کررہ گئے ہیں مہنگائی اور بدامنی نے عوام کی زندگی مشکل بنادی ہے بلدیاتی اداروں سے تو مسائل پہلی سٹیج پر ہی حل ہونے کی سبیل نکل آتی ہے کونسلر چیئرمین شرم وشرمی عوامی مسائل حل کردیتے ہیں لاہور کے کئی علاقے ایسے ہیں وہاں مسائل کی بھرمارہے لوگ گندے پانی کے نکاس ،پینے کا پانی انتہائی آلودہ ،ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور مسائل در مسائل سے یہ آبادیاںدیہات کا منظر پیش کررہی ہیں لگتا ہی نہیں یہ لاہور کا علاقہ ہے بلکہ اسے لاہور کہنا بھی لاہور کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے یہ علا قے جنجال پورہ بنے ہوئے ہیں اس وقت آدھا لاہور مسائلستان بناہوا ہے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ان تمام مسائل کو وزیر ِ اعلیٰ پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت لاہور میں متعدد میگا پرا جیکٹ پرکام ہورہا ہے بلدیاتی ادارے نہ ہونے سے سے سے بڑا نقصان کروناوائرس کے دوران مستحقین کا ہوا حکومت کو بھی بہت دقت کا سامنا کرنا پڑا اب بھی اگر یونین کونسل سطح پر مسائل اور وسائل کی حکمت ِ عملی ترتیب دی جائے تو نچلی سطح پرہی عوام کو ریلیف دیا جاسکتاہے لیکن افسر شاہی یہ کبھی نہیں چاہے گی ۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جن علاقوںمیں ترقیاتی کام ہورہے ہیں کیا حکمرانوں کی نظر میں وہی لاہورہے؟ حالانکہ ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ اس ترقی میں سب کو شامل کیا جاتا ۔۔یہ بات ریادہ اہم ہے کہ جو کام اداروں کے کرنے کےلئے ہوتے ہیں وہ ایک روٹین ورک میں ادارے ہی بہتر کرسکتے ہیں جنرل مشرف کا وضح کردہ بلدیاتی نظام ایک بہتر سسٹم تھا اس سے اختلاف کرنا سب کا حق ہے لیکن یہ بات ماننی پڑے گی کہ ضلعی حکومتوں کے دورمیں پاکستان کی تاریخ میںملک بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے افادیت کے اعتبارسے یہ ایک اچھا نظام تھا پنجاب میں مسلم لیگ ن نے ضلعی حکومتوں کی زبردست مخالفت کی اسے نری کرپشن قرار دے کرسختی سے مسترد کردیا اور کونسلروںپر مبنی پرانا نظام بحال کرنے کااعلان کیا مزے کی بات یہ ہے کہ تحریک ِ انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ ن کا بلدیاتی نظام نا منطورکرتے ہوئے نیا لوکل باڈیز ایکٹ لانے کا عند یہ دیا جس کے بعد بلدیاتی اداروںکو چلتا کردیا حالانکہ ان کی مدت ختم ہونے میں سال ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی تھا اب مسلم لیگ ن نے اپنی پارٹی کے چیئرمینوں،وائس چیئرمینوں اور کونسلروںکی طفل تسلی کے لئے ان کی حمایت میں جلوس بھی نکالے اسے ڈھٹائی کی بدترین مثال بھی کہا جا تکتاہے کہ مسلم لیگ ن نے آج تک بلدیاتی اداروں اور نمائیذوںکو کوئی اختیارات نہیں دیئے بس پوائنٹ سکورنگ کے لئے عمران خان کی مخالفت میں انہیں ہلا شیری دیتی رہی ۔ مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں محض ڈرانے کے لئے بلدیاتی اداروں کے احتساب کااعلان کیالیکن پورے پانچ سالوں کے دوران ایک ضلعی یا تحصیل ۔۔حتیٰ کہ کسی یونین کونسل کے چیئر مین کے خلاف بھی کرپشن کاایک بھی کیس رجسٹرڈ نہیں کروایا گیا یعنی
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ ِ خوں بھی نہ نکلا

یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں ڈکٹیٹر کے نافذ کردہ اسی کرپٹ ضلعی حکومتوں کے نظام کو ہی شرفِ قبولیت بخش ڈالا ناظم کا نام چیئرمین اورنائب ناظم کا نام وائس چیئرمین رکھ کر اسے نیا نظام بناکر پنجاب اسمبلی سے بھی منظور کروالیا گی یہ الگ بات کہ اختیارات صلب کرلئے گئے یا پھرکم کردئےے گئے اس کا صاف صاف مطلب یہ لیا جا سکتا ہے ایک ڈکٹیٹر نے پہلی بارعوامی نمائندوںکو نچلی سطح پر بااختیار بنایا اور جمہوریت کے دعوےداروں نے ان اختیارات میں اضافہ کرنے کی بجائے اسے بے دست و پا بنا دیا اور عمران خان کی حکومت بھی مشرف والے بلدیاتی سسٹم کو فالو کرہی ہے اسی میں تبدیلیاں کرکے لاگوکردیا جائے گا نہ جانے کیا سائنس ہے ہر جمہوری حکومت بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر افسرشاہی کے اختیارات کو مزید مستحکم بنا دیتی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے دل میں کروڑوں عوام کی خواہش کا کوئی احترام نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا اس وقت کے منتخب وزیر ِ اعظم کی حمایت میں عوام نے سڑکوںپرآنا پسند نہیں کیا شاید حکمران اپنے آپ کو بادشاہ سلامت سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے کسی جمہوری حکمران نے آج تلک بلدیاتی انتخابات کروانے کا تکلف نہیں کیا تاریخ اٹھا کر خود ملاحظہ کرلیں جب بھی لوکل باڈیز الیکشن ہوئے کسی نہ کسی ڈکٹیٹر کی چھتری تلے ہی ہوئے ہیں پھر کس طرح ہمارے حکمران خودکو عوامی سمجھتے ہیں بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے یہ الیکشن ہر چار سال بعد ہوتے رہیں تو پاکستان میں جمہوریت پھلنے اور پھولنے کا خواب شرمندہ ¿ تعبیرہو سکتاہے اس وقت ہماری اسمبلیوں میں ایک بڑی تعداد ان افرادکی ہے جو ماضی میں بلدیاتی اداروں کاحصہ رہے ہیں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انہی لوگوںکی اکثریت بلدیاتی انتخابات کروانے کے حق میں نہیں شاید اس لئے کہ کونسلروں چیئر مینوں کو فنڈ ملنے لگے تو ارکان ِ اسمبلی کی مناپلی ختم ہو جائے گی اور اسمبلیاں محض قانون ساز ادارے بن کررہ جائیں گی اور بلدیاتی اداروں کے فنڈزسے ایم پی اے ،ایم این اے حضرات کی موجیں ختم ہوجائیں گی
آگے آتی تھی حال ِ دل پر ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
آئی بات سمجھ میں؟ عمران خان وعدہ کرنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات کروانے میں سنجیدہ نہ ہوئے تو لوگ ان کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے ایک بات طے ہے جب حکومت کی مرضی ہوگی بلدیاتی انتخابات تبھی ہو ں گے یہی سچائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں