مولانا فضل الرحمان کو بہت زیادہ لفٹ کرانا ہماری غلطی ہے، شیخ رشید

ننکانہ صاحب:  وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے تسلیم کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھرنے سے متعلق حکومت کی میڈیا پالیسی درست نہیں ہے، ہماری غلطی ہے کہ دھرنے والوں کو خوامخواہ لفٹ کرائی،مولانا فضل الرحمان کا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا،وہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے راستہ مانگ رہے ہیں، ہوسکتا ہے درمیانی راستہ نکل آئے، انہیں فیس سیونگ دی جاسکتی ہے، بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے ڈرے ہوئے ہیں،میاں شہباز شریف بھی وکٹ کے دونوں طرف نظر آ رہے ہیں۔منگل کو ننکانہ صاحب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سب اچھا ہے، کوئی خوف وہراس نہیں، اسلام آباد میں دھرنے کی کوئی گنجائش نہیں، مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے لیے انتظامات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔شیخ رشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا، وہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے راستہ مانگ رہے ہیں، ہوسکتا ہے درمیانی راستہ نکل آئے، انہیں فیس سیونگ دی جاسکتی ہے، اس سلسلے میں فضل الرحمان کو کشمیر پر ریلی نکالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، ہماری غلطی ہے کہ ہم نے انہیں بہت زیادہ لفٹ کرائی ہے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ میں نے کیبنٹ میں بھی کہا ہے کہ ہماری میڈیا پالیسی مناسب نہیں ہے، ہم خوامخواہ دھرنا دینے والوں کو لفٹ کرا رہے ہیں۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے ڈرے ہوئے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ میاں شہباز شریف بھی وکٹ کے دونوں طرف نظر آ رہے ہیں، انہیں کہا ہے کہ ایک طرف کھیلیں، آسمان پر رہیں یا پھر اپنے قدم زمین پر رکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری مولویوں سے ڈرے ہوئے ہیں، انہیں پتہ ہے کہ یہ دھرنا دیں گے، تاہم دارالحکومت میں دھرنے کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ ڈنڈوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پورا یقین ہے کہ معاملات سیٹل ہو جائیں گے، جوڈو کراٹے اور بنکاک کے شعلے نہیں دیکھ رہا، سب اچھا ہی دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب دنیا بھر میں اسلامی قوتوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، مدرسے اسلام کا قلعہ ہیں اور علما قابلِ احترام ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ بعض بے وقوف طاقتیں مولانا فضل الرحمن کی تصویر دہشت گرد کی حیثیت سے پیش کر رہی ہیں جو کہ غلط ہے، مولانا خود کئی بار دہشت گردی کی نذر ہوتے ہوتے بچے ہیں۔شیخ رشید نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہماری حکمتِ عملی میں نریندر مودی پھنس رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک دن کی لڑائی نہیں ہے، چین میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ وقت گزارنے کا وقت ملا، سمجھتا ہوں کہ پاک فوج ہر لمحے کسی بھی جارحیت کامنہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں