شروع میں ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے غلطیاں ہوئیں، ہم اسی کی دہائی میں ہارورڈ اور آکسفورڈ کے کیمپس بناتے تو آج ہمارا معیار کچھ اور ہوتا، فواد چوہدری

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہاہے کہ شروع میں ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے غلطیاں ہوئیں، ہم اسی کی دہائی میں ہارورڈ اور آکسفورڈ کے کیمپس بناتے تو آج ہمارا معیار کچھ اور ہوتا، چائنہ اور امریکہ میں ملٹری اور سویلین ملکر رسرچ کرتے ہیں، ان ممالک میں ملٹری ریسرچ اور ٹیکنالوجی کو سویلین سیکٹر میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، فوج سیاسی جماعتوں اور لوگوں کی ہے،آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کا ووٹ دینا احسن اقدام ہے،فیصل واڈا پر بات کی تو میڈیا میں نیا مسئلہ سامنے آ جائیگا،ملک میں استحکام کی ضرورت ہے اپوزیشن اور اداروں کو ساتھ لیکر چلنا ہے،شہباز شریف اور خواجہ آصف وزارت عظمی کی عہدے کے لیے آپس میں ٹاس کر لیں،لگتا ہے شہباز شریف واپس نہیں آئینگے ۔ جمعرات کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سائبر سکیورٹی نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومیں ایک شعبہ میں ترقی سے اوپر نہیں جاتیں، تمام شعبوں میں ہی ترقی ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم امریکہ کی بات کرتے ہیں امریکہ تمام شعبوں میں تقریبکر چکا ہے، ہمیں پوری مائیکرو پالیسی کو ہی ٹھیک کرنا پڑے گا۔ فواد چوہدری نے کہاکہ آج ہم کہتے ہیں دو ہزار بائیس میں ہمارا پہلا مشن خلا میں جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ قومیں ایک ہی شعبے میں ترقی نہیں کرتیں،تمام شعبوں کو مد نظر رکھ کر قومیں آگے آتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ پراپیگنڈا کا تبادلہ ایک میڈیا ٹھیک کرنے سے نہیں ہوگا،پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے۔انہوںنے کہاکہ 2 ہزار 22 میں پاکستان کے خلاء میں جانے کی بات کریں تو لوگ منہ کھول کر شکل دیکھتے ہیں،ابتداء میں ہمارا آغاز بہت اچھا تھا مگر جغرافیائی حالات کے باعث ہم پیچھے گئے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے مدارس بنائے مگر نصاب کی بہتری کے لیے اداروں میں بہتری نہیں لائی گئی،اگر بروقت حکمت عملی تیار کی جاتی تو تعلیم اور روزگار میں ہم آگے ہوتے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے ایف تھنڈر بنایا مگر ٹی وی نہیں بنا سکا، پاکستان شروع میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔فواد چوہدری نے کہاکہ شروع میں ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے غلطیاں ہوئیں،ہم اسی کی دہائی میں ہارورڈ اور آکسفورڈ کے کیمپس بناتے تو آج ہمارا معیار کچھ اور ہوتا۔ فواد چوہدری نے کہاکہ چائنہ اور امریکہ میں ملٹری اور سویلین ملکر رسرچ کرتے ہیں، ان ممالک میں ملٹری ریسرچ اور ٹیکنالوجی کو سویلین سیکٹر میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔فواد چوہدری نے کہاکہ قومیں ہمشیہ ہر شعبے میں ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں،پروپیگنڈے اور ہائیبروارفیئر کا مقابلہ کرنے کے لیئے مائیکرو پالیسیز کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2022 میں پاکستان کا پہلا اسپیس مشن خلاء میں جائے گا۔انہوںنے کہاکہ 1962 میں جب سپارکو شروع کی تو انڈیا اور چائینہ ہمارے مد مقابل ہی نہیں تھے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے دنیا کی لڑائیاں لڑیں 80 کی دہائی میں اگر ہم انٹرنیشنل لیول کی یونیورسٹیاں بنا چکے ہوتے تو حالات بہتر ہوتے ،ہم اپنے ٹینک اور جے اہف ٹھینڈدر خود بناتے ہیں لیکن فون اور چارجز خود نہیں بناسکتے،ہماری ڈرون ٹیکنالوجی بہترین ہے لیکن دنیا میں ڈرون زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ زراعت کے شعبے میں 157 تنظیمیں کام کررہی ہیں لیکن ان کو ایک دوسرے کا علم نہیں،دنیا میں ہمیشہ 10 سال کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے،فائیوجی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کی طرز کا انقلاب لائے گی،فائیوجی سے ہر چیز تبدیل ہو جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں یونیورسٹی اور ایکیڈمیا کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، فائیو جی بالکل ہمارے دروازے پر ہے۔فواد چوہدری نے کہاکہ فائیو جی سے ہمارے ملک میں ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ہر بزنس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہے، اگر ہم ملک میں بغیر ڈرائیو کار چلاتے ہیں تو ڈرائیور بیروزگار ہوجائیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی نئی جابز بھی ملیں گی۔فواد چوہدری نے کہاکہ ڈرائیور بے روزگار ہوں گے تو کار کو رموٹ کرنے میں روزگار پیدا ہوگا،ہمیں مستقبل کے لئے بائیو ٹیکنالوجی کو فوکس کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا ملک فری لانس سافٹ ویئر کرنے والا ساتواں ملک ہے، ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی ترقی میں امریکہ کا بڑا کردار تھا۔فواد چوہدری نے کہاکہ آج بھی ہمیں امریکہ کے ساتھ کْھل کر روابط رکھنے کی ضرورت ہے، اسلام آباد میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا دوسرا پارک بھی بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ اگلے تین سالوں میں بنیاد رکھیں گے کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور آئی ٹی میں بہتر تبدیلی لائینگے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو 60 کی دہائی میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ اپوزیشن نے زمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے،فوج سب کی اتنی ہے جتنی پی ٹی آئی کی ہے،فوج سیاسی جماعتوں اور لوگوں کی ہے،آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کا ووٹ دینا احسن اقدام ہے،اپوزیشن نے اقدام کی تعریف کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان الیکشن کمیشن اور نیب قوانین پر بھی معاملات چل رہے ہیں،ملک میں استحکام کی ضرورت ہے اپوزیشن اور اداروں کو ساتھ لیکر چلنا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں اچھا ماحول لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ فیصل واڈا پر بات کی تو میڈیا میں نیا مسئلہ سامنے آ جائیگا،سنا ہے خواجہ آصف بڑے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شہباز شریف اور خواجہ آصف وزارت عظمی کی عہدے کے لیے آپس میں ٹاس کر لیں۔ انہوںنے کہاکہ شہباز شریف نے سنا ہے 12 تیرہ ہے ٹوپیاں خرید لی ہیں،لگتا ہے اب شہبار شریف نہیں واپس آئینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں