سول ہسپتال کی خراب صورتحال پر دل خون کے آنسوں روتا ہے ،سردار اشرف کا کڑ

لورالائی ( این این آئی) سول ہسپتال کی خراب صورتحال پر دل خون کے آنسوں روتا ہے ٹیچنگ ہسپتال کی حالت درست کرنے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو سیاسی پارٹیاں اور سول سوسائٹی ملکر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوجائینگے حکومت عوام کو صحت تعلیم صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بری طرع ناکام ہو چکی ہے عوامی نمائندے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے تو اقتدار سے چمٹنے کے بجائے مستعفی ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سردار اشرف کا کڑ سردار مظفر اوتمانخیل قیصر خان شبوزئی کمانڈر صادق خان علیزئی جہانزیب خان رحیم خان کدیزئی محمد اکرم موسی خیل پشتونخواایس او کے ضلعی جنرل سیکرٹری مالک ناصر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ذکریا ملازئی یعقوب خان شبوزئی اسلامی جمعیت طلباء کے کریم ناصر سیٹزن ایکشن کمیٹی کے محمد اخلاص حمزہ زئی نے آل پارٹیز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول ہسپتال لورالائی کی زبوں حالی اور علاج معالجے کی سہولیا ت نہ ہونے اور ڈاکٹروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری سے ہسپتال ویران ہو گیا ہے لورالائی سول ہسپتال جو کہ ڈویژنل و ٹیچنگ ہسپتال ہے لیکن اس وقت صرف عمار ت ہی موجود ہے علاقے کے غریب مریضوں کو دور دراز علاقوں سے علاج کیلئے لایا جاتا ہے لیکن ہسپتال میں عدم سہولیات کی وجہ سے اکثر مریض مایوس اپنے گھر وں کو لوٹ جاتے ہیں اور مجبو ری کی وجہ سے وہ کوئٹہ اور ملتان کا رخ کرتے ہیں جسپر بھاری بھر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں جبکہ غریب مریض اخراجات کی عدم برداشت کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم بھی ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کو سخت سردی سے بچا نے کیلئے کو بندوبست نہیں ہے انہوں نے کہا کہ گائنی وارڈ میں زچگی کے دوران ماں اور بچے سردی برداشت نہیں کر سکتے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی جانب سے آئے روز بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اصل صورت حال یہ ہے مقامی سطح پر علاج معالجہ کا نہ ہونا عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے انہوں نے صوبائی حکومت اعلی حکام وزیر اعلی بلوچستان گورنر بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان صوبائی وزیر صحت سیکرٹری صحت کے علاوہ حلقے کے ایم این اے ایم پی اے کمشنر ژوب ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر لورالائی سے پرزور مطالبہ کیا کہ ہسپتال کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اپنا فریضہ ادا کریں بصورت دیگر آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر بڑے پیمانے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جس میں احتجاجی مظاہرے شٹر و پہیہ جام ہڑتال شامل ہیں انہوںنے کہا کہ لورالائی شہر گھمبیر مسائل سے دوچار ہے شہر کی سڑکیں تالابوں کا منظر پیش کررہی ہیں پینے کے صاف پانی کامسلہ بدستور موجود ہے سڑیٹ لائٹس موجود نہیں ہیں جبکہ شہر کی سڑکو ں پر بار بار فنڈز منظور ہوئے ہیں خصوصا ژوب روڑ چلنے کے قابل نہیں ہے ہے اہم ہے محکمہ صحت اورہسپتال کے ذمہ دار آفیسران ایسے کوئٹہ اور بروری سے چلارہے ہیں مقامی ڈاکٹروں کو اہم پوسٹوں سے ہٹادیا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں