وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی امریکی مشیر قومی سلامتی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

واشنگٹن (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطہ کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا ،پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے ،مذاکرات کے ذریعے معاملات کے پرامن حل کا حامی ہے، پاکستان ،امریکہ کے ساتھ جامع، طویل المدتی اور کثیر الجہتی شراکت داری پر مبنی دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے ،امریکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے کا نوٹس لیتے ہوئے کرفیو کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق “حق_خود ارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی ایمبسڈر رابرٹ او برائن سے ملاقات کی ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ستمبر 2019 کو تعینات ہونے والے نئے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی سے پہلی باضابطہ ملاقات ہے،دوران ملاقات پاک -امریکہ دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے جولائی 2019 میں ہونیوالے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ اور صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی ان ملاقاتوں نے پاک امریکہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ،امریکہ کے ساتھ جامع، طویل المدتی اور کثیر الجہتی شراکت داری پر مبنی دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو ان کاوشوں سے آگاہ کیا جو پاکستان ، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے بروئے کار لا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو خلیجی ریاستوں کے دارالحکومتوں میں کیے گئے اپنے حالیہ دوروں کا احوال بتاتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے ،مذاکرات کے ذریعے معاملات کے پرامن حل کا حامی ہیخطے میں پائی جانے والی کشیدگی پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ خطہ کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا -اسی لئے پاکستان ، کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں قیام_امں کے لیے اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں، بھارت کی جانب سے کئے گئے یکطرفہ اقدامات ، پانچ ماہ سے جاری مسلسل لاک ڈاؤن، ذرائع ابلاغ پر پابندی سمیت مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مختلف مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکہ اس انسانی المیے کا نوٹس لیتے ہوئے ،کرفیو کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق “حق_خود ارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے ۔فریقین نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ،پاکستان کی طرف سے، افغان قضیے کے سیاسی تصفیے،اور افغان امن عمل میں مصالحانہ کوشیش جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔امریکی مشیر برائے قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے افغانستان میں قیام امن کی امریکی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے اور افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں