مقاصد قیام ِپاکستان اورحالات حالِ پاکستان!

شہزادافق
ہم جب بھی مقاصد پاکستان کا ذکر کرتے ہیں،تو حالات کاوہ خوفناک منظرسوچ کر آنکھ نم ہوجاتی ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا ساچھا جاتا ہے ،وہ ظلم کی وادی ،وہ لٹتی عزت و آبرو ،وہ قیامت کامنظر،وہ خون کی ندیا ں ،وہ تڑپتے بلکتے بچے،مجبور بے بس ماو ¿ں کے آہیں۔سوچتے ہوئے وقت ایک دم رک ساجاتا ہے۔چار سواندھیرا ہوجاتا ہے ،جیسے سورچ کوگرہن لگ گیا ہو،وہ ناراض ہوکرہم سے کوسوں دور چلا گیا ہو۔تاریکی ہمارا مقدر بن چکی ہو بے بسی ،لاچارگی نے ہمیں باندھ لیا ہو،اب یہاں سے باہر نکلنے کی سب امیدیں ٹوٹ چکی ہوں۔آزادی کے خواب سارے چکناچور ہوچکے ہو،وقت نے جیسے تھک ہار اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہو،یقین کاجیسا خود سے اب یقین ٹوٹ چکا ہو، بھروسہ حسرت بھری نگاہوں سے آزادی کی جانب دیکھ رہاجیسے اور کہہ رہا کہ کاش!
مایوسی ناچ گارہی تھی۔مگر اسلام میں مایوسی ایک بہت بڑا گناہ ہے۔اورمسلمان قوم مایوسی نہیں ہوتی کیونکہ ان یہ جانتے ہیں ،کہ کشتیاں جلانے والے،لہودھرتی کوپلانے ،سومنات گرانے والے،نیزوں پرقرآن سنانے والے قلعہ خیر جتانے والے قسمت سے ٹکرانے والے،نصیب خوداپنابنانے والے ہم ہیں اپنے پرعزم اراے لیکر پھر اٹھی اوراورحالات کا مقابلہ کیا 70ہزارماو ں بہنوں کی قربانی دی لاکھوں کروڑوں جوان بزرگ بچے شہید ہوئے۔تب جا کر کہیں یہ مقاصد پاکستان نے قیام پاکستان کی صورت اختیار کی او ر دنیائے افق پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے ہمارا یہ عظیم ملک وجود میں آیا۔ناجانے کتنی اذیتوں کاسفر تھا 1857ئ کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد جو مسلم قوم کے ساتھ ہوا وہ لفظوں میں بیاں نہیںکیا جا سکتا۔وقت نے بہت زخم دیئے جن کابھرنا مشکل ہے وہ لمحات پڑھتے ،سوچتے بندآنکھوں سے دیکھتے ہوئے ایک قیامت سامنظر سماں اختیار کر لیتا ہے۔اورناجانے کتنے زخم تروتازہ ہوجاتے ہیں،زندگی بے سکون سے ہوجاتی ہیں۔خیر اللہ، اللہ کر کے ایک آزاد ملک بنا لیا تاکہ یہاں سب آزادی سے اپنی زندگی گزار سکیں قیام پاکستان کے ساتھ وہ مقاصد پاکستان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا آئین (دستور)ترتیب دیا گیاقیام پاکستان کابنیادی مقصد اسلامی احکامات کو رائج کرنا۔اسلامی اخلاقی اقدار کا معاشرہ تشکیل دینا، سامراجی قوتوں سے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنا لازم تھا۔اورطاقت ور کمزور کودبوچ نہ لے قانون نافذ کرنا امیرغریب ،سب برابر ہیں سب کے لئے یکساں قانون بنایا،کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ،تو ہمارے ملک کے قوانین اسلام کے برعکس کیسے ہوسکتاہے۔چلوخیر یہ تو تھی ہمارے قوانین کی بات اب آتے حالات حال حقیقت پاکستان کی جانب کیا ان قربانیوں کا کوئی فائدہ ہوا جن لوگوں نے آزادی کی خاطر خود کو قربان کردیا۔ان ماو¿ں بہنوں کی عزت وآبرو تک چلی گئی آزادی کی خاطر کیا ہم آزاد ہیںکیا اسلامی قوانین کے مطابق انصاف مل رہا ہے ؟ کیا پاکستان میں سب کے لئے یکساں قانون نافذ ہے؟کیا جرم ہونے کے بعد امیر غریب ،کمزور طاقتور ایک لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں؟کیا عدالتی نظام سب پاکستانیوں کے یکساںہے ؟ کیا تھانوں میںامیر غریب کے ایک جیساسلوگ برتا جاتا ہے؟کیا ہماری بہن بیٹیوں کی عزت وآبرو محفوظ ہے ؟ کیاقتل وغیرت کا سلسلہ تھم گیا ہے ؟ کیا معصوم بچیوں کوزیادتی کانشانہ بنا کر موت کے گھاٹ نہیںاتار دیا جاتا تھا۔۔؟ کیامدارس میں بچوں کو زیادتی اورتشدد کیا نشانہ نہیں بنایا جاتا ؟کیایہی مقاصد پاکستان تھے؟کیا قربانیاں اس بے ہودہ غیراخلاقی حرکات کے لئے دی گئیںتھیں؟کیا بچوں کو ماو ں نے اپنے سامنے نیزوں پر چڑھتے اس لئے دیکھا تھا ؟کہ ملک آزاد ہونے کے بعد پھر یہی سلسلہ جاری رکھنا ؟ کون تھے وہ لوگ عزتیں لوٹنے والے کل ؟اور کون لوگ ہیں یہ جو آج معصوم بچیوں کی عزت لوٹ کر موت کے حوالے کردیتے ہیں؟ ایک سوال ہے میرا سب 22کڑور عوام سے کیا انگریز سامراج دور میں کسی آٹھ سالہ یا پانچ سالہ بچی کی عزت لوٹ کر اسے موت کے حوالے کسی درندہ صفت انسان نے کیا تھا ؟ یا ایسی حرکت کسی ہندو ،سکھ عیسائی نے یا پھر مسلمان نے انگریز دور میں کی تھی ؟جو اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آئے روز ہوتا رہتا ہے قبل اززینب سے لیکر اب تک کتنے حالات دیکھ ،سن اور پڑھ رہے ہیں، اب تو مقاصد قیام پاکستان کی سمجھ نہیں آرہی۔لوٹ مار ،ڈاکے عصمت وآبرو کو دن دیہاڑے بے دردی سے لوٹا جارہا ہےقانون خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔کیا سانحہ ماڈل ٹاو ن کے شہیدوں کے ورثاءکرام کو انصاف مل چکا ہے؟ کیا سانحہ ساہیوال کے ان معصوم بچوں کو انصاف مل چکاہے؟ کیا بلوچستان کے جبری اغوا ہونے والے لوگوں کورہائی مل چکی ہے؟کچھ اربوں کھا گئے ،کچھ کھربوں کھاگئے یاپھر باہر لے گئے مگر پاکستان میں پکڑ ا صرف وہی جاتا ہے ،جوانسان بچارہ غلطی سے اپنی گاڑی کے کاغذات گھر بھول آئے!
مگر قانون ہے مگر صرف غریب کے لئے ہے کمزور کے لئے ہے ،غریب کی زندگی ختم ہوجاتی ہے وہ مرجاتا ہے انصاف نہیںملتا بعض اوقات تو عدالت بے گناہ قرار دے دیتی مگر پتہ چلتا ہے کہ ملزم بچارے کوتو چندسال قبل پھانسی ہوچکی تھی یہ ہے غریب کے لئے قانون ہے ملک ریاض کے لئے نہیں ہے غریب کے لئے قانون ہے اشرافیہ کے نہیں،جاگیردار نہیں ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ قانون صرف غریب کے لئے ہے عزت وآبرو کل بھی غریب کی لٹتی تھی آج بھی غریب کی لٹتی ہے کمزوراو ر غریب کل بھی مظلوم تھا ہے اورآج بھی مظلوم ہے کل بھی ظالم اس پر حاوی تھا، اور آج بھی ظالم حاوی ہے۔مقاصد پاکستان لے کر آنے والے چل بسے قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی۔پھر وہی جاگیردار اوروڈیروں کی شاہی ہے اوریہ جاگیر دار اس وقت بھی انگریز کے محبوب تھے اوران کے معاون ومددگار تھے۔ان جاگیرداروں کی کوئی قربانی نہیں کل بھی قربانیاں صرف غریب نے دی اورآج بھی قربانیاں غریب دے رہا ہےخدا رحم کرے اس عظیم ملک پاکستان پر اور اس کے حقیقی مقاصد پر چلانے والا کوئی ایماندار لیڈر آجائے تاکہ ریاست مدینہ بن سکے !
انصاف مل سکے سب کو یکساں اور امیروغریب ،کمزور اور طاقتورجرم کرنے کے بعد ایک ہی لائن میںہوںظلمت وبے دردی کادور ختم ہو ،جج کی بیوی روپڑے تو بے گناہ ثابت ،ماڈل ٹاو¿ن اور سانحہ ساہیوال والوں کا رونا کسی عدلیہ کونظر نہیں آتا افسوس صد افسوسسوچ بدلیں زندگی بدلیں کیا یہی تھے مقاصد پاکستان ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں