ہمارا سعدی بھی تاریخ کا ایک روشن ستارہ

تحریر: نصیب ساگر
نام تاریخ میں لکھواو ¿ مگر یاد رہے
حق و باطل کے لئے ہوتے ہیں القاب جدا (منقول)
تاریخ کے سینے کو اگر چھیر کے دیکھا جائے تو اس میں دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ظلم کا راستہ اپنایا، دوسروں کے حقوق کھائے۔ اپنی انا کی خاطر انسانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ مظلوموں کو اپنا ماتحت بنایا یا وہ جو ظلم دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ایسوں کے کرتوتوں نے انسانیت کو شرمایا، تاریخ نے ان کو اپنے سینے میں جگہ تو دی مگر ان کے نام سیاہ حروف سے لکھی جائی گی۔
دوسرے ایسی شخصیات ہیں جنہیں تاریخ نے اپنے ماتھے پر جھومر بنا کر ہمیشہ کیلئے زندہ وجاوید رکھا۔ تاریخ نے انہیں اچھے القابات سے نوازا، انہیں روشن رکھا۔ انکی روشنی کو راستہ دکھانے کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے انسانیت کی خدمت کی۔ ظلم کے سامنے مضبوط سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں۔ لوگوں کے حقوق کی بات کی۔ اپنی انا کو دفناکر حق کے لئے باطل کا مقابلہ کیا۔سر تو کٹا دیے مگر ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائے۔ تاریخ نے موسیٰ کو عزت بخشی اور فرعوں کو غرق کرکے عبرت کا نشان بنادیا۔ تاریخ نے حسین کو ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید رکھا اور یزید کو ذلت سے یاد رکھا ۔ تاریخ میں نام لکھوانا تو آسان مگر تاریخ میں ایسا نام پیدا کرنا مشکل ہے جو ہمیشہ تاریخ کے صفحات پہ چمکتا رہے اور تاریخ کو بھی چمکاتا رہے۔
شہید مفتی شفیق اللہ سعدی بھی ایک ایسے عہد ساز شخصیت ثابت ہوئے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ ان کی خدمات تاریخ کے سینے میں سنہرے حروف سے درج ہونگے بلکہ ہوچکے۔ انسانیت بھی اسکے نام پہ رشک کریگی۔ وہ ساری زندگی تعلیم و تعلم سے وابسطہ رہیں مگر ساتھ ساتھ مظلوموں کا ساتھ دینے کا جذبہ بھی جاری رکھا۔ وہ نہ صرف سی ٹی ایس پی ٹیسٹ کے زریعے پاس ہونے والے پانچ ہزار شارٹ لسٹڈ ٹیچرز کو انکا حق دلوانے کے لئے جہدو جہد کررہے تھے بلکہ پانچ ہزار خاندانوں کا سہارا بنا اور انہیں منزل مقصود پر پہنچا دیا۔ اس راستے میں اس نے اپنا وقت اور مال حتٰی کہ اپنی جان کا بھی نذرانہ پیش کیا۔ وہ اب جسمانی طور پر ہمارے درمیان تو نہیں رہے مگر وہ تاابد ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔
وہ حوصلے بانٹنے والا سعدی ، وہ ہر وقت مسکرانے والا سعدی ، وہ ہر ایک کو ہنسانے والا سعدی ، وہ خدمت کے جزبے سے سرشار سعدی ، وہ دعاو ¿ں میں ظالموں کو ڈرانے والا سعدی ، وہ حق بات پر ڈٹے رہنے والا سعدی، وہ مظلوموں کے لئے ڈھال بن کر کھڑا رہنے والا سعدی ، وہ حق پر ثابت قدم رہنے والا سعدی ، وہ دوستوں کی آواز پہ لبیک کہنے والا سعدی ، وہ دوستوں کے ایک بلاوے پر ان کے پاس پہنچنے والا سعدی ، وہ مزاقا” دوستوں کو تنگ کرنے والا سعدی ، وہ حکیمانہ باتیں کرنے والا سعدی ، وہی تو تھا ہمارا سعدی جو شیخ سعدی کی طرح خوش مزاج ، ملنسار ، حقیقت پسندانہ مزاج رکھتا تھا۔ وہ ایک عالم تھے ،وہ ایک حافظ تھے، وہ ایک قاری تھے، وہ ایک مفتی تھے، وہ ایک مدرس اور وہ ایک پیش امام تھے۔ اس نے اپنے بوڑھے والد اور بچوں کو چھوڑ کر اپنے بھائی کو یہ کہہ کر میدان میں اترے۔ “کہ وہ امامت جیسے مقدس فریضے کو اس لئے چھوڑ رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو انکا حق دلوانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتا ہے”۔ اس نے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں کسی کی مدد کروں۔ میں اپنی زندگی میں دوسروں کے لئے کچھ کروں۔ یقینا اپنے لئے جینا تو جینا نہیں ہوتا دوسروں کے لئے جینا ہی اصل زندگی ہے۔ وہ دوسروں کو جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔اس نے کہا کہ وہ ایک ظالم نظام سے مقابلہ کرکے حق دار کو اسکا حق دلائے گا۔ وہ ظالموں کو للکارے گا اور کہے گا کہ اے ظالموں اگر ہمارے ساتھ ناانصافی کروگے تو ہم دوبارہ آئینگے۔ ہم اپنا حق لینا بھی جانتے ہیں اور چیھننا بھی جانتے ہیں۔ ہم اپنے دور دراز سے آئے غریبوں کو مایوس نہیں کرینگے۔
بلوچستان میں میرٹ ہمیشہ پامال ہوتا رہا ہے۔ یہاں اسمبلی ممبران راتوں رات امیر ہوتے ہیں۔ وہ ممبر جو پہلی دفعہ اسمبلی سائیکل یا رکشے میں پہنچتا ہے تو پانچ سال بعد وہ سونے اور جواہرات سے کھیلتا ہے۔ اپنا بینک بیلنس بناتا ہے۔ بیرون ملک جائیدادیں خریدتا ہے۔ یہاں پوسٹیں بکتی ہیں۔ یہاں پوسٹوں پر بولیاں چلتی ہیں۔ یہاں پوسٹوں کو وزراءآپس میں بانٹتے ہیں۔بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار سی ٹی ایس پی نے شفافیت کی اک ایسی مثال قائم کی کہ ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو موقع ہی نہیں ملا کہ وہ ان پوسٹوں کو تقسیم کرے یا ان پر بولیاں لگائے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے رکاوٹیں ڈالنا شروع کیے۔ مفتی شفیق اللہ شہید نے کابینہ کے دوستوں کے ساتھ ملکر جہدوجہد کی۔ ہر محاذ پر آواز بلند کی۔ ان کے ہر ہتھگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔ چمن سے لیکر جعفر آباد تک اور ڑوب سے لیکر گوادر تک گئے۔ ڈی اوز اور ڈی سیز کا کام بھی انہیں سمجھایا۔ کمشنرز کو بھی کام سمجھایا بلکہ ان کو بندے بھی کام کرنے کے لئے دئیے۔
بد قسمتی سے تربت سے واپسی کا سفر انکا آخری سفر ثابت ہوا۔تربت سے روانہ ہونے کے بعد انکے گاڑی کو پنجگور کے قریب حادثہ پیش آیا جس میں مفتی شفیق اللہ صاحب موقع پر شہیدہوگئے اور انکے باقی چار ساتھی معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔ مفتی شفیق اللہ شہید ایک ناقص نظام سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ مفتی صاحب کا مشن تا قیامت زندہ رہے گا۔ مفتی صاحب کی شہادت سے مزید متحد ہوکر اس کارواں میں شامل اساتذہ اپنی دن رات ایک کرکے مفتی صاحب کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں