پاکستان اگر افغانستان کے ساتھ تجارت نہیں کرنا چاہتا تو حکومت واضع کر ائے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہاکہ پاکستان اگر افغانستان کے ساتھ تجارت نہیں کرنا چاہتا تو حکومت واضع کر ئے اس ایجنڈا پر تیسرا اجلاس ہورہا ہے اور آہستہ آہستہ دلچسپی کم ہورہی ہے ٹرانزٹ ٹریڈ پر افغانستان سے زیادہ مسائل پاکستانی تاجروں کے ہیں اگر ہم تجارت نہیں چاہتے تو واضح طور پر بتایا جائے وزارت کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی ہے پاکستان اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے کوشش کرے تجارت کو دیگر مسائل پر ترجیح دی جائے پاکستان کو تجارت کو ترجیح دینا ہوگی بعض اشیاکی شیلف لائف 4 سے 5 دن ہوتی ہے کوئی مسئلہ ہوجاتا ہے کوئی اگر پتھر پھینکتا ہے تو تجارت کو بند نہیں ہونا چاہیے پیرکو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داود نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت ہمارے فائدے میں ہے افغانستان کی ترقی پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے افغان وفد کے ساتھ وزیر اعظم ہاوس میں ملاقات ہوئی ہے آئندہ ماہ کے وسط میں افغانستان جاو ں گا افغانستان کو کہا ہے کہ تمام مسائل سے آگاہ کرے مذاکرات شروع ہونے کے بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل ہوں گے۔ سیکرٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمیں پاک افغان تجارت پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی معاہدے کا پہلا دور نومبر میں ہوگا پاکستان کی جانب سے مشیر تجارت عبدالرزاق داو د وفد کی سربراہی کریں گے کابل کی دعوت پر پاکستانی وفد افغانستان جارہا ہے پاکستان نے اپنے حصے کا کام کیا ہے لیکن جامع ایجنڈا کابل نے بھیجنا تھا پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارتی معاہدے کئے جائیں گے غلام خان بارڈر کو تجارت کے لئے کھول دیا گیا ہے پاک افغان سرحد پر تجارتی سہولیات کو بہتر کیا جا رہا ہے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر تکنیکی مذاکرات کا ابھی آغاز نہیں ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں