نااہل حکمران اور عوام

عمرفاروق
آپ پہلے یہ حقیقت ملاحظہ کریں چین کے شہر ووہان سے کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کورونا وائرس کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے اس دوران اس نے خوب تباہی مچائی، پوری دنیا کو 95 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، سول ایوی ایشن انڈسٹری کی کمر ٹوٹ چکی ہے،

کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، تیرہ لاکھ 50 ہزار افراد کورونا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر پانچ سے چھ لاکھ نئے مریض سامنے آرہے ہیں،روز 8 سے دس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں چنانچہ پوری دنیا کورونا کو وحشت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، اس نے دنیا بھر کی معیشتوں کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں،

آپ پاکستان کو لے لیجئے ملک کو ساڑھے تین ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، تعمیراتی شعبے مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، پہلے ہی بیروزگاری کا راج تھا کورونا کی وجہ سے اس میں دو سو گنا اضافہ ہوچکا ہے،

بچوں کا پورا سال کورونا کی نذر ہوگیا ہے، پاکستان ہو امریکہ ہو یا پھر پوری دنیا کورونا کے ہاتھوں پٹ رہی ہے، کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہے چنانچہ دنیا اس مرتبہ پہلے سے زیادہ محتاط ہے، یہ فورا لاک ڈاؤن کی طرف جارہی ہے، عوام حکومتوں کے ساتھ مکمل طور پر کارپوریٹ کر رہی ہے.

اب آپ دوسری حقیقت ملاحظہ کریں پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس آیا ملک میں اب تک تین لاکھ 65 ہزار مریض سامنے آچکے ہیں، دوسری لہر شروع ہوتے ہی کیسز کی تعداد 5 گنا ہوچکی ہے، روزانہ دو سے تین ہزار نئے مریض سامنے آ رہے ہیں، 7300 لوگ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، دوسری لہر شروع ہوتے ہی دنیا محتاط ہوگئی ہے

مگر ہم اب تک کورونا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، آدھے سے زیادہ ملک اسے “سازش” قرار دے رہا ہے، کوئی اسے یہودی لابی کے خاطے میں ڈال رہا ہے اور کوئی اسے بل گیٹس کا کارنامہ سرانجام دے رہا ہے، کچھ ماہرین اسے پاکستانی میڈیا اور حکومت کا گٹھ جوڑ قرار دے رہے ہیں، ان کا خیال ہے حکومت امداد کے چکر میں کورونا کا ڈرامہ رچا رہی ہے،

کوئی ان پوچھے “جناب چند ملین ڈالر کی امداد کے لئے کوئی ٹریلینز میں اپنا نقصان کیوں کروائے گا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا، ہم بھی پوری دنیا کی طرح کورونا کی پہلی لہر سے سیکھتے مگر جسے تسلیم ہی نہیں کیا اس سے سیکھنا کیا؟ پوری دنیا کورونا کی دوسری لہر سے آگاہ تھی، یہ بات ہماری حکومت اور اپوزیشن سے بھی ڈھکی چھپی نا تھی لیکن آپ ان کی نالائقی دیکھیں، جب باقی دنیا دوسری لہر سے نپٹنے کی تیاریوں میں مصروف تھی ہم جلسے جلوس نکال رہے تھے، کورونا کی ویکسین تیار ہو چکی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2021 کے وسط تک یہ “ڈسٹری بیوشن” کے لیے بھی تیار ہوگی،پوری دنیا ویکسین کی بکنگ کروا رہی ہے لیکن ہمارے حکمران صاحبان اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جلسے جلوس نکالنے میں مصروف ہیں، آپ اپوزیشن کی ہٹ دھرمی دیکھیں یہ اپنے مفادات میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انھیں اقتدار کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا، یہ کورونا کی آڑ میں بھی سیاست کر رہی ہے، اپوزیشن پاور شو کا مظاہرہ کرے اور حکومت بیٹھی رہے، یہ کیسے ممکن تھا یہ بھی لگے دھڑا دھڑ جلسے کرنے، انہوں نے کورونا سے کیا خاک نپٹنا تھا، اب دوسری لہر نے اپنا پاور شو دکھانا شروع کر دیا ہے، یہ کب تک رہتی ہے، کتنی تباہی مچاتی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں ہمارا ہیلتھ سسٹم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ہمیں اپنی اوقات کا بھی پتہ ہے، کورونا پر قابو پانے کا کریڈٹ لینے والے لوگوں کی نااہلی پوری دنیا کے سامنے ہے، مگر اس کے باوجود ہم سدھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،ملک میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ انسان کانپ اٹھتا ہے، مان لیا کہ حکومت نالائق سہی، نااہل سہی، مگر عوام نے کونسی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے، کورونا کے پھیلاؤ میں ہم عوام کا سب سے زیادہ قصور ہے، آپ حکومت کو جی بھر کر گالیاں دیں مگر تھوڑا سی خود کی بھی خبر لیں، لیکن کیوں؟ جب ہم نے کچھ کیا ہی نہیں، سارا کیا دھرا حکومت کا ہی ہے تو ہم کس لیے سدھریں؟ ہمیں کورونا سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ ہمارا امیون سسٹم ہی بہت شاندار ہے، مرنے والے تو بزدل تھے، کمزور تھے، حکمران تو حکمران، عوام ان سے بھی بڑھ کر ہے ،یہ حقیقت کو بھی حقیقت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور یہ جب تک خود اس شکار نہیں ہوں گے انھیں یقین نہیں آئے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں