بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، مریم نواز کا چیلنج

سلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ قریبی رشتوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو۔
(ویب ڈیسک )

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد عدالت پیشی کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مریم نواز، اختر مینگل، میاں افتخار، اویس نورانی، راجہ پرویز اشرف، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور راشد محمودسومرو سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر بات چیت اور مشاورت کی گئی۔

پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ قائداعظم کےمزار پر ان کے فرمودات کو دہرانا کون سا گناہ ہے؟ قائداعظم کے مزار پر نوازشریف زندہ باد یا مریم زندہ باد کے نعرے نہیں لگے، بلکہ صرف ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے گئے، مزار قائد پر ہلڑ بازی پی ٹی آئی نے کی تھی، اور ہمارا مزار قائد پر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی گناہ بن گیا، جانتی ہوں ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے کون ڈرتا ہے، فاطمہ جناح سے نواز شریف سب کو غدار قرار دیا گیا، سب کو معلوم ہے کہ نامعلوم افراد کون ہیں، جو خلائی مخلوق سے زمینی مخلوق بن گئے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حکومت نے ہمارا کام آسان کردیا اور ہمیں قوم کو بتانے کا موقع دیا کہ نواز شریف سچ کہتے ہیں کہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست نہیں بلکہ ریاست سے بالا ریاست ہے، قریبی رشتوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم دھمکیوں سے مرعوب ہوجائیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کراچی میں صفدر کی گرفتاری کا مقصد پی پی اور ن لیگ میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے، صفدر کو پہلے سے دھکیاں مل رہی تھیں کہ آپ کو نہیں چھوڑیں گے، کیپٹن صفدر کیخلاف کیس کا مدعی دہشتگردی کیس میں اشتہاری ہے، تمام مقدمات میں ایک جیسےمدعی کیوں ہوتےہیں۔

پی ڈی ایم قیادت نےکیپٹن (ر) صفدرکی گرفتاری پرتشویش کااظہارکیا، وزیراعلیٰ سندھ نےفون کرکےکہاکہ ہم شرمندہ ہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے فون پر کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری میرے لیے باعث صدمہ ہے، انہیں جس طرح گرفتار کیا گیا وہ سندھ کی روایات کے خلاف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں