بلوچستان میں 59 فیصد سے زیادہ لوگ گیس کے بغیر زندگی بسر کر رہے ہیں،ساجد ترین ایڈووکیٹ

کوئٹہ میں گیس پریشر اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ، مرکزئی رہنماء بی این پی
جلد ہی گیس کے معاملے کو حل نہ کیا گیا تو ہم اس سلسلے میں آواز اٹھائیں گے

کوئٹہ (صحافت ویب ڈیسک ) بلوچستان ہائیکورٹ بار کے سابق صدر و بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزئی رہنماء ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر گیس کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ جلد حل نہ ہوا تو ہم دیگر معزز وکلاء کے ہمراہ اس معاملے کو عدالت میں اٹھائیں گے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سوئی گیس فیلڈز میں ابھی بھی بلوچستان کا حصہ 40 فیصد سے کم ہے ، جو پورے پاکستان کو گیس مہیا کرتا ہے ،

لیکن بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے لوگ ابھی بھی پتھر کے دور میں جی رہے ہیں

اس سرد موسم میں بغیر گیس کے اگر کوئٹہ کا یہ حال ہے تو ہم دوسرے اضلاع کے لئے کسی خیر کی توقع کیسے کرسکتے ہیں۔
سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بلوچستان میں 59٪ سے زیادہ لوگ گیس کے بغیر زندگی بسر کر رہے ہیں

اور پھر وہ ہمارے ساتھ ترقی کا وعدہ کرتے ہیں۔

لہذا اگر جلد ہی اس معاملے کو حل نہ کیا گیا تو ہم اس سلسلے میں آواز اٹھائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں