تاریخی امن معاہدے پر عمل کیلئے پرعزم ہیں، ملا ہیبت اللہ

کابل/دوحہ: افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم امریکا سے تاریخی معاہدے پر عمل کے لیے پرعزم ہے لیکن یہ کہانی یکطرفہ نہیں چلے گی بلکہ امریکا اور دوسرے فریق بھی افغانستان میں امن کے لیے اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرنا ہو گی،ہم اپنے مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں،عوام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی ریاست نظام کیلئے تعاون کرے، ہماری حکومت میں افغانستان میں سب کو مساوی حقوق حاصل ہونگے،ہم اسلامی ممالک سے برادرانہ، پڑوسیوں کے ساتھ ہمسائیگی اور خطے اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم امریکا سے تاریخی معاہدے پر عمل کے لیے پرعزم ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام پر اپنے پیغام میں ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور دوسرے فریق بھی افغانستان میں امن کے لیے اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کریں۔ملا ہیبت اللہ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان امریکا کے ساتھ تاریخی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں، واشنگٹن بھی خطے میں امن کے لیے یہ موقع ضائع نہ کرے، امریکی حکام کسی کو اس معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے یا موقع ضائع کرنے کی اجازت نہ دیں۔دوسری جانب افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے انھوں نے قطر میں طالبان مذاکراتی وفد کے سربراہ ملابرادر سے ملاقات کی اور وہ بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔ایک بیان میں زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ انھوں نے طالبان پر واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں اب رک جانی چاہییں۔ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دشمنی ترک کرنے کی شرط پر اپنے مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا اور کہا کہ معاشرے کے ہر مرد و عورت رکن کو اس کا حق دیا جائے گا۔عید الفطر سے قبل ایک پیغام جاری کرتے ہوئے طالبان رہنما نے خاص طور پر کہا کہ اسلامی امارات کی اجارہ داری کی پالیسی نہیں اور یقین دہانی کروائی کہ افغان معاشرے کے ہر مرد و عورت کو اس کے حقوق دیے جائیں گے تا کہ کسی کو محرومی یا نا انصافی کا احساس نہ ہو۔بیان میں کہا گیا کہ معاشرے کی بہبود، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری تمام کام شریعت کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے مخالفین کے لیے اس صورت میں عام معافی کا اعلان بھی کیا کہ اگر وہ دشمنی ترک کردیں۔طالبان قائد نے کہا کہ ہم ہر ایک پر زور دیتے ہیں کہ اپنی مخالفت ترک کر کے معافی سے مکمل فائدہ اٹھائیں اور ایک اسلامی حکومت کے قیام میں رکاوٹ نہ بنیں جو لاکھوں، شہدا، زخمیوں، معذوروں، یتیموں، بیواں اور مشکلات کا شکار افغانوں کی خواہش ہے۔طالبان تحریک کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے اور دنیا کے ممالک کے ساتھ اسلامی امارات کے سیاسی تعلقات ماضی کے مقابلے وسیع ہوئے ہیں۔ملا ہیبت اللہ کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی کی بنیاد پر ہم اسلامی ممالک سے برادرانہ، پڑوسیوں کے ساتھ ہمسائیگی اور خطے اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں