موجودہ سلیکٹڈ حکمرانوں کی سندھ میں گورنر راج کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی، میر علی مدد جتک

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر میر علی مدد جتک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں گورنر راج لگانے کی کو ششوں کی مذمت کر تے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کسی بھی شخص کو گورنر راج لگانے کی اجازت نہیں ہے اگر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو وفاقی حکومت بھی نہیں رہے گی پا کستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے اور یہ سلیکٹڈ حکومت اپنے آقائوں کوخوش کرنے کیلئے سندھ میں گورنر راج قائم کرنے کے درپے ہیں۔ جمعرات کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش میں مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کیا میر علی مدد جتک نے کہا ہے کہ اس وقت کورونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہے اس وقت وفاقی حکومت کی ذمہ د اری بنتی ہے کہ وہ کورونا جیسے عالمی وبا کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیتی اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا تا لیکن بد قسمتی سے سلیکٹڈ حکمرا نوں میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے جس سے کورونا جیسے وبا کا خاتمہ کیا جا سکے اب وہ اپنی ناکامی چھپانے کیلئے سندھ میں گورنر راج لگانے کے لئے کو شاں نظر آ رہے ہیں جس کی ہم مذمت کر تے ہیں اگر وفاقی حکومت نے ایسا کوئی غیر جمہوری اقدام اٹھایا تو پاکستان پیپلز پارٹی وفاق اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے حکومت کا خاتمہ کرینگے سندھ میں پیپلز پارٹی کو حکومت کسی نے خیرات میں نہیں دی بلکہ عوام کے ووٹوں کی طاقت سے پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش تواس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے اٹھارویں ترمیم کے لئے پیپلز پارٹی نے اپنے قیادت کی قربانی دی ہے اور صوبائی خود مختاری سے صوبے مضبوط ہو گئے اب وفاقی حکومت کرپشن کو فروغ دینے کے لئے مزید صوبوں کے فنڈذ سے کٹوتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں