ایک اور اسرائیل بسانے کی سازش

ایم سرورصدیقی
بھارت نے مقبوضہ وادی میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا کالا قانون نافذ کرکے جنوبی ایشیاءکا مستقبل تاریک کرڈالا جس سے خطے کا امن تارتار ہوگیا ہے گذشتہ سال 5اگست کو جب مودی سرکارنے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تو دنیا بھر میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی کیونکہ ا س بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔ لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے الگ کر دیا گیا۔ یہ قدم اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے اٹھایا گیا ۔ بھارتی اقدام کے خلاف پاکستان ،آزادکشمیر،لندن ،کنیڈا سمیت دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف ا حتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں لیکن عالمی برادری کے کانوںپرپر آج تک کوئی جوں تک نہیں رینگی یہ منافقت کیبدترین مثال ہے۔ حقائق بتاتے ہیں جب بھارتی پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ آرٹیکل 35 اے اور 370 منسوخ کرنے کا شوشہ چھیڑا گیا تھا اس وقت بھی بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان نے ماننے سے انکار کر دیا تھا جس پر اجلاس کے دوران اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال داو پر لگانے پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن رہنماوں نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ہار دیکھتے ہوئے صدارتی حکم نامے کے ذریعے نئے کالے قانون پر عملدرآمد کروا دیا۔ آرٹیکل 35 اے، بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا حصہ تھا جس کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔ آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جاتا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا اور نہ ہی یہاں کی مستقل شہریت حاصل کر سکتا تھا اور نہ ہی ملازمتوں کا حقدار تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہی آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت تھا۔ اسے منسوخ کرنے کا مطلب بھارت کی جانب سے کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کرنا ہے۔آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس تھے جن میں سیکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے۔ بھارت اب کشمیریوں کی جداگانہ پہچان ختم کرکے متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔ اس لیے آج تک تمام کشمیری بھارت کے اس نظرئیے کی مذمت کرتے رہے ہیں۔اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا ماحول کرائی جائے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آئین کے آرٹیکل 370 کی ایک شق کے علاوہ تمام شقیں اور آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری کی حیثیت ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے۔ بل کے ذریعے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کر دیا گیا، جموں و کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی، لداخ بغیر قانون ساز اسمبلی کے وفاقی علاقہ ہوگا۔جموں و کشمیر ریزرویشن بل 2019ءکے ذریعے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو بھی ختم کردیا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کشمیریوں کو کچھ حقوق حاصل تھے اور اس کے ختم ہونے سے اب کشمیری ان چند حقوق سے بھی محروم ہوجائیں گے، جبکہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر اب بھارتی یونین کا حصہ کہلائے گا، جموں و کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اس دفعہ کے تحت مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔ آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ صنعتی کارخانے اور ڈیم کے لیے اراضی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی اس طرح مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت ایک نیا اسرائیل بسانے کی سازش کررہی ہے کیونکہ مودی چاہتا ہے سری نگر اور لداخ پر 35 اے اور 37 لاگو کرکے براہ راست دہلی کے زیر تسلط لے آئے جو پاکستان اور کشمیریوں کیلئے ناقابل قبول ہے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا بھارتی حکومت کا آئین سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا یک طرفہ، جانبدرانہ اور خودساختہ فیصلہ ہی نہیں بلکہ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کو ایک ’قابض فورس‘ میں تبدیل کردے گا بھارتی فیصلے سے برصغیر سے تباہ کن نتائج ہوں گے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگیا جب کہ بھارتی حکومت کے ارادے صاف ظاہر ہیں، وہ چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کی عوام خوف و ہراس کا شکار ہو جائیں اس بھارتی اقدام سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار وادی ¿ کشمیر میںآباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔ آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ صنعتی کارخانے اور ڈیم کے لیے اراضی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آ دیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گاکشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، قائد اعظم ؒکے اس فرمان پر ہر پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہے، جو ہماری شہہ رگ اور قومی عزت وغیرت پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت کرے گا، وہ بھیانک انجام سے دوچار ہوگا،کشمیر کاز کے لئے پاکستان یک آواز اور متحد ہے کشمیر کی خود مختارحیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے کیونکہ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے باقاعدہ اعلان جنگ کردیا ہے، جس شق کو نہرو ختم نہ کرسکا، اسے مودی نے ختم کرکے بتادیا کہ بھارت اشتعال انگیز ریاست ہے یہ ریاستی دہشت گردی کا بین ثبوت ہے ضروری ہوگیاہے کہ پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی بنا ئی جائے، مقبوضہ وادی اور پاکستان کے کروڑوں عوام بانگ ِ دہل اعلان کرتے ہیں کہ بھارت سن لے! پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ مقبوضہ وادی میں ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے کا وقت آگیا ہے عالمی ضمیر اگر آج سورہاہے تو یقینا کل ہر باضمیر بول اٹھے گا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں