بلوچ تاریخ کی پہلی حافظہ،فارغ التحصیل عالمہ انجینئر اسسٹنٹ کمشنر عائشہ صاحبہ

تحریر! (محمدسلیم رند)
مردم خیز سرزمین بلوچستان نے ایسے نامور, شخصیات جنم دی ہیں کہ ان پر اگر علیحدہ سے ایک کتاب لکھی جائے تو بھی کم ہے, بلوچ ٹیلنٹ کی معترف مملکتءخداداد کے ہر باشعور لکھاری زیر قلم لا چکے ہیں وہ کونسا شعبہ ہے جہاں اس سرزمین کی بیٹے اور بیٹیوں نے تاریخ رقم نہ کی ہو.تحریر کو ماضی کے خوشنما اور اس مٹی کے نامور ہستیوں فرزندوں کی تاریخی زندگی پر روشنی ڈالنے سے ہٹ کر الفاظ اور قلم کا رخ آج ایک مردم خیز سرزمین جھالاوان سے تعلق رکھنے والی بلوچ بیٹی سے کروانا چاہتا ہوں کہ جو بلوچ تاریخ کا وہ پہلا کامیاب انسان ہے جسکی زندگی ابتدا سے ہی محنت اور لگن پڑھنے پڑھانے کے بعد ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے کہ جس سے کسی صورت انکار کی گنجائش ہے ہی نہیں سرزمین خضدار میں آنکھ کھولنے والی محترمہ عائشہ زہری نے ابتدائی عصری تعلیم کے ساتھ ہی دینی علوم میں بھی قدم رکھتے ہی لگن اور محنت کے ساتھ علم کی تشنگی سے سیرابی کے لیئے تعلیمی کے سمندر میں ایسی غوطہ لگائی کہ دنیا ششدر رہ گئی, جی ہاں نامساعد حالات میں رہ کر کم عمری میں ہی قرآن کریم حفظ کی,حافظہ بننے کے بجائے وہ دل میں عالمہ بننے کی خواہش لیکر دن رات محنت کرکے خدا نے اس مقام سے بھی نواز دی اور یوں محترمہ عائشہ زہری صاحبہ کی عالمہ بننے کی خواہش کو رب العالمین نے پوری کردی۔علمی تشنگی کے اس پیاسے نے عصری تعلیم میں وہ کامیابیاں سمیٹی کہ دنیا دھنگ سی رہ گئی اور باقی دیگر طلباءو طالبات کے لیئے مشعلء راہ بن گئی ہے جامعہ خضدار سے الیکٹریکل کے تمام شعبوں میں ٹاپ کرنے پر گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ دوسری گولڈ میڈل انہیں جامعہ کے انجینئرنگ کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں ٹاپ کرنے پر ملی اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیاءکو خاص کر طالبات کو یہ پیغام دی کہ انسان اگر مخلصی کے ساتھ اپنے منزل کو پانے کا ارادہ کرے تو دنیا کے کوئی دشواری انکا سامنا کر ہی نہیں سکتی۔ 2006 میں وہ پہلی بلوچ فیمیل ایس ڈی او واپڈا تعینات ہوئی ایک سال تک وہ بطور ایس ڈی او خدمات سر انجام دیتی رہی اور ساتھ ہی پی سی ایس کے امتحانات کی تیاری بھی کرتی رہی 2017 میں پی سی ایس کے امتحانات میں ڈویڑنل لیول پر اوپن میرٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور بطور اسسٹنٹ کمشنر ریونیو اینڈ ریجنل اتھارٹی قلات ڈویڑن تعینات ہوئیں دن رات خدمت مخلوق خدا دل میں لیکر خدمات سر انجام دیتی رہی انکے پے درپے کامیابی بہت سے مایوس چہروں کے لیئے ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہورہی ہے. نومبر 2019 میں وہ بحثیت اسسٹنٹ کمشنر دالبندین میں خدمات سر انجام دے رہی ہے چارج سنبھالنے کے بعد امن و امان کو کنٹرول کرنے کے علاوہ صحت و تعلیم اور پرائس کنٹرول کے حوالے سے انقلابی کاموں کی آغاز کر دی ہے اہلیان چاغی اپنے اس عظیم بہن کی قدر کرکے ہمیشہ شانہ بشانہ رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں