غیر اخلاقی رویے

احمد علی کورار
ایک طبقہ اناث جنرلز اور کرنلز کی چاہ میں اس قدر شیفتہ ہوا ، طالع برگشتہ وہ عمر بھر رشتہ ازدواج کے بندھن میں بھی منسلک نہ ہو سکیں۔ عہد کر لیا بیاہ کرنا ہے تو صرف جرنیل یا کرنل سے۔ یہ ان دنوں کی بات جب میڈم نور جہاں نے بھی تو کچھ اعلیٰ حضرت شاعروں کے ساتھ مل کے اپنی سریلی آواز میں ایسے گیت سنائے کہ قوم کی صنف نازک کی آنکھوں میں جو خواب بسے، ان کے ہیرو صرف کرنیل یا جرنیل ہی ہو سکتے تھے۔
اب جر نیل یا کرنل کی بیوی کا اعزاز ہر کسی کی قسمت میں تھوڑی لکھا ہوتا ہے۔
وہ بڑی خوش طالع بیبیاں ہیں جن کے شوہر جنرلز اور کرنلز ہیں۔
اور وہ جب چاہیں بڑے کروفر سے کسی  کی بھی ایسی تیسی کر لیتی ہیں۔کیونکہ وہ جنرلز اور کرنلز کی شریکِ حیات ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ گردش کر رہی تھی جس میں کر نل کی بیوی قانون کی دھجیاں اڑاتے نظر آتی ہے اور  پولیس والے کی ایسی تیسی کرتی دکھائی دیتی ہےگھر میں بیٹھی کچھ بیبیاں کلس رہی تھیں۔ہا رے ہم پھسڈی کے پھسڈی رہ گئے۔
مشہور ہونے کا اچھا موقع تھا۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی اس خاتون کی جس نے بد مزگی کا مظاہرہ کیا اور چیک پوسٹ پر ذرا دیر ٹھہرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔
پولیس والے نے بہت مزاحمت کی اس کی گاڑی روکنے کی بڑی کو شش کی۔لیکن تمام بے سود۔ اور وہ یہ کہتے ہوئے نکل گئی کہ میں کر نل کی بیوی ہوں کسی کی کیا اوقات کہ وہ میرا راستہ روکے؟ اور جو کچھ اس نے پولیس والے کو کہا وہ یہاں ناقابل بیان ہے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جو منظر عام پرآیا ہے۔
اس سے پہلے بھی اس طرح کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔
پچھلے سال ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہوئی  دوران چیکنگ وہ پولیس کے سامنے خود کو کسی فوج کے سر براہ کا بھانجا کہتا ہے لیکن دوران تفتیش پتہ چلا وہ یہ سب ڈھونگ رچا رہا تھا۔
اگر بات کی جائے خواتین کی یہ کرنل کی بیوی والا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جس میں خواتین پولیس کے ساتھ بد تمیزی کرتے نظر آئی ہیں۔
لیکن بات کو ہم یہاں ختم نہیں کرتے۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے پولیس نے سماج میں جو اپنا امیج بنایا ہے وہ عوام سے اسی رویے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ میں ان خواتین کی حمایت کر رہا ہوں جو بدمست ہو کر قانون توڑتی پھریں۔انھوں نے جو کچھ کیا وہ سراسر غلط ہے۔
لیکن یہ بھی تو غلط ہے پرانی موٹر سائیکل پر سوار غریب جوڑے کو جو اپنی بیٹی کا علاج کرانے شہر جاتے ہیں بلاوجہ اسے گھنٹوں ٹھہرانا تنگ کرنا جب کچھ بن نہ پایا تو غریب شخص کو بیگم کے سامنے گالم گلوچ کرنا۔کیا پولیس کا یہ رویہ قانونی ہے۔
بلاوجہ کسی ڈرائیور کو اپنے چھوٹے بیٹے کے سامنے اینٹوں سے زدوکوب کرنا ڈرائیور بیچارہ خون سے لت پت ہو جاتا ہے۔ کیا یہ بد مستی کی انتہا نہیں ہے۔یہ سب کچھ کس قانون کے مطابق کیا جا رہا ہے۔کیا یہ غلط نہیں ہے؟
بھری وین میں کسی پیرسن کو چور کہہ کر اتارنا جو بیچارہ عمر کے اس حصے میں جو بمشکل چل پھر سکتا ہے کیا یہ غلط نہیں ہے۔
اور سینکڑوں ایسے مناظر آ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں جس میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح پولیس غریب عوام کے ساتھ پیش آتی ہے اور ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔
چاہے کرنل کی بیوی کا رویہ ہو یا پولیس کا غریب عوام کے ساتھ رویہ یہ دونوں رویے ہمارے سماج کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا کہ ہم معیشت سے کہیں زیادہ اخلاقیات کے بحران میں مبتلا ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں