پاک ایران سرحد کیساتھ ملحقہ امیگریشن گیٹ بند،دو طرفہ آمدورفت اور ٹرانزٹ گاڑیوں کا داخلہ نہ ہوسکا

نوکنڈی (این این آئی)پاک ایران سرحد کیساتھ ملحقہ امیگریشن گیٹ بند،دو طرفہ آمدورفت اور ٹرانزٹ گاڑیوں کا داخلہ نہ ہوسکا ۔تفصیلات کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کی تصدیق اور ہلاکتوں کے بعد ایران کیساتھ تفتان میں متعصل امیگریشن گیٹ کو ممکنہ وائرس کے خطرات سے نمٹنے کی صورت میں بند کی گئی دو طرفہ آمدورفت روک دی گئی اور ٹرانزٹ گاڑیوں کے بھی داخلہ روک دی گئی ہے امیگریشن زرائع کے مطابق روزانہ دو طرفہ زاہرین کی تعداد سات سو کے قریب ہیں جو آتے اور جاتے ہیں قافلوں میں جو زاہرین ایران جاتے ہیں انکی تعداد دو سے تین ہزار افراد پہ مشتمل ہے زرائع کا مذید کہنا ہے کہ اکیس فروری کو گیارہ سو سے زائد افراد پر مشتمل زاہرین کا ایک بڑا قافلہ ایران گیا ہوا ہے چہلم اور خاص ایام کی مناسبت سے کثرت سے زاہرین ایران کا سفر کرتے ہیں،100 بستروں پر مشتمل موبائل ہیلتھ یونٹ تفتان پہنچا دیا گیاڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمران زرقون کا کہنا ہے کہ 100 بستروں پر مشتمل موبائل ہیلتھ یونٹ تفتان پہنچا دیا گیا جہاں ایران سے پاکستان آنے والے افراد کی اسکریننگ کا عمل بھی شروع کیا جائیگا،تفتان میں پی ڈی ایم اے ،انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں ممکنہ وائرس کے خطرات سے حکمت عملی بنائی جائیگی تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے ایران سے آنے والے سو کے قریب زاہرین پاکستان ہاؤس میں موجود ہے جن سے گزشتہ دونوں وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے بھی ملاقات کی تھی،واضح رہے ایران کیساتھ ایک ہزار کلومیٹر پہ مشتمل طویل سرحدی پٹی ہے جہاں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے ممکنہ حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے اس کے علاؤہ تفتان سے قریب افعانستان کی بھی سرحد ہے جہاں سے بھی لوگ آزادنہ پاکستان آتے اور جاتے ہیں کورونا وائرس کی منتقلی کیلئے حکومت وقت کو ٹھوس اقدامات کرکے شہریوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے رکن صوبائی اسمبلی ثناء  بلوچ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں پہ افسوس اور تشوتش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ ایران کی طویل سرحدی پٹی ہے جہاں اطراف میں بلوچ قبائل آباد ہے ممکنہ وائرس سے حفاظتی انتظامات کیلئے وزیراعلی بلوچستان فوری اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں