شہداء ہمارے محسن ہیں ،ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی ) انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ نے کہا ہے کہ پولیس کے آفیسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے بلوچستان کی سرزمین کو امن کا گہوارہ بنایا ہے شہداء ہمارے محسن ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا صوبے کے امن کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے سی ٹی ڈی اس سال بلوچستان کے تمام اضلاع میں اپنا نیٹ ورک قائم کر کے دہشتگردی کے خاتمے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گا شہداء کے بچوں کی تعلیم کی تمام ذمہ داری محکمہ پولیس بلوچستان اور صوبائی حکومت کے سپرد ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہرنائی میں ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد وسیم کے اہل خانہ سے فاتحہ خوانی اور تعزیت کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر و ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان و بلوچستان کانسٹبلری کے کمانڈنٹ محمد نعیم بھروکا ، ڈی آئی جی کائونٹر ٹیر ازم ڈیمارٹمنٹ اعتراز احمد گورایہ ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر فدا حسین شاہ، ڈی آئی جی سبی رینج پرویز احمد چانڈیو ،ڈی آئی جی ٹیلی محمد فرحان، ایس پی مختارکا سنٹیل محمد وسیم شہید کے والد ، بھائی اور دیگر بھی موجود تھے آئی جی پولیس محسن حسن بٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس نے اپنی جانیں قربان کر کے صوبے کے امن کے قیام کو یقینی بنایا ہے کیونکہ پولیس کے آفیسران اور جوانوں نے شہادت کا رتبہ پا کر بلوچستان کے لوگوں کے تحفظ کیلئے قربانیاں دی ہے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا انہوں نے کہا کہ پولیس آئندہ بھی اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کو یقینی بنانے اور عوام کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان پولیس کے سینئر آفیسران شہید ہونے والے محمد وسیم کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کیلئے آئے ہیں کیونکہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہے انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری بلوچستان پولیس اور صوبائی حکومت کے ذمہ ہے شہداء کے اہل خان کو صو با ئی شہداء پیکج کے تحت معاوضہ ملے گا اور بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کا نیٹ ورک اس وقت بلوچستان کے 27 اضلاع میں موجود ہے ان کے دفاتر اور دیگر وسائل کا مسئلہ تھا حکومت کی جانب سے نئی عمارتوں کی تعمیر میں وقت درکار تھا اس لئے ہم نے وقت ضائع کئے بغیر تمام اضلاع میں جو بھی سرکاری ، خالی اور غیر استعمال عمارتیں موجود تھیں ان میں سی ٹی ڈی کا نیٹ ورک قائم کردیا ہے اور ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلو چستان کے دیگر 7 اضلاع میں اس سال کے آخر تک سی ٹی ڈی کا نیٹ ورک قائم کردیا جائے گا اس سے دہشتگردی کے خاتمے کو یقینی بناتے ہوئے بلوچستان میں امن کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والے کانسٹیبل محمد وسیم کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں بہت جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے شکنجے میںجکڑ یں گے اس موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان کی جانب سے بلوچستان پولیس کی شیلڈ ، رقم اور بچوں کیلئے کھلونے اور دیگر تحائف بھی دیئے اس موقع پر شہید کانسٹیبل محمد وسیم کے بھائی محمد جاوید نے آئی جی پولیس محسن حسن بٹ سمیت دیگر اعلیٰ آفیسران کی آمد پرکہا کہ مذ کو رہ افسران کی جا نب سے ہما را دکھ اور غم با ٹنے پر ان کا شکر یہ ادا کر تے ہو ئے کہا ہے کہ شہید وسیم دبا رہ زند ہ نہیں ہو سکتا البتہ ہما را غم اور دکھ کم ہوا ہے اور ہمیں احسا س ہوا کہ محکمہ پو لیس اور حکو مت ہر مو قع پر ہما رے سا تھ ہے انہوں نے ہمارے گھر آکر ہمارے اس غم کو بانٹنے کی کوشش کی ہے اللہ تعالیٰ شہید کی قربانیوں کو قبول فرمائے ایک ہمارے بھائی کی قربانی سے سینکڑوں بے گناہ لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اس کا صلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں