نوازشریف کی اپیلوںپر طویل سماعت ملتوی نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے العزیزیہ اور ایون فلیڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کے خلاف سماعت کی۔ نواز شریف کے وکیل منور دوگل جبکہ نیب کی طرف سے نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کیس کی پیروی کی ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاک کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹس وصول ہو چکے ہیں ۔دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کاؤنٹی کورٹ سے وارنٹ کی تعمیل کا کیا بنا؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے

جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایک مقررہ وقت پتہ چل جاتا کہ دس دن لگیں گے یا پندرہ دن تو ہم اس حساب سے تاریخ مقرر کر دیتے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیں جیسے ہی کاؤنٹی کورٹ کی تعمیلی رپورٹ موصول ہوئی وہ جمع کرا دی جائے گی

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طویل عرصہ کے لیے سماعت ملتوی نہیں کر سکتے ہم ایک ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کر دیتے ہیں عدالت نے پاناما ریفرنسز میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت 30ستمبر تک ملتوی کر دی جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی اپیلوں کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں سنیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں