مولانا ”اپوزیشن فیلو“ کے ساتھ ساتھ اب ”نیب فیلو“ بھی بن گئے،حافظ حسین احمد

کوئٹہ(ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ستمبر کے بعد ستمگر کے دن گنے جائیں گے، حکومت کو جنوری تک کی مہلت اس لیے دی گئی ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اپنا ہوم ورک اور نیٹ پریکٹس مکمل کرسکیں،دو سال کے بعدہی امپائر نے اپنی غیر جانبداری کی یقین دہانی کرادی ہے اب حکومتی ٹیم کو فالو آن سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

اپنی رہائشگاہ جامع مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ جنوری تک حکومت کو 100دن کی مہلت اس لیے گوارا کی گئی ہے کہ جے یو آئی کے طرح اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے ابھی تک اپنا ہوم ورک اور نیٹ پریکٹس مکمل نہیں کرسکی جبکہ جے یو آئی آزادی مارچ سیریز کے علاوہ ملین مارچ کے 15،20ٹی ٹونٹی میچ بھی کھیل چکی ہے،انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میچ سے پہلے امپائر نے دونوں طرف کے کھلاڑیوں کو بلاکر اپنی غیر جانبداری کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آئند ہے کاش یہ عمل جنرل شجاع پاشا کے دور سے ہی عمل پزیر ہوتا توآج یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی بہرحال دیر آید درست آید لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ دو سال کے بعد اس وضاحت کی کیوں ضرورت درپیش ہوئی؟

جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ نے مولانا فضل الرحمن کے صدارتی دنگل میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا البتہ مسلم لیگ ن کے قائدین کے پرزور اصرار پر یہ فیصلہ تبدیل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 70سالہ دور میں مارشل لاء اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کے باوجود سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی راہ نکالی،مولانا فضل الرحمن کو نیب کے نوٹس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے مزید مستحکم ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں کیوں کہ اب وہ ”اپوزیشن فیلو“ کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے”نیب فیلو“ بھی بن چکے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں