ایران، نومبر میں گرفتار کیے گئے تین مظاہرین کو سزائے موت کا حکم

تہران (این این آئی )ایران میں ایک عدالت نے تین شہریوں کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔انھیں گذشتہ سال نومبر میں تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران میں گرفتار کیا گیا تھا۔ایران کے انسانی حقوق کے کارکنان کی خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی کہ امیر حسین مرادی ، سعید تمجیدی اور محمد رجبی کو ایران کے خلاف بلووں اور آتش زدگی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان تینوں گرفتار شدگان سے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرایا گیا تھا۔ایک تفتیش کار تو تفتیش کے دوران میں مرادی کی چھاتی پر چڑھ گیا تھا جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں۔تمجیدی اور رجبی نے بھی اپنے خاندانوں کو بتایا کہ ان کے خلاف عاید کردہ بیشتر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے اور تشدد سے ان سے اعترافِ جرم کرایا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق انھوں نے اپنے خاندان کے افراد کو بتایا تھاکہ وہ ملک میں ناانصافیوں سے تھک گئے تھے اور ہم اس پر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔ایران میں قیدیوں سے تشدد کے ذریعے جبری اعترافِ جرم کی مشق بہت عام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں