پی ٹی آئی حکومت کے ایک سال میں اندرونی وبیرونی قرضوں میں 31 اضافہ ہوا ، اسحاق ڈار

لندن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ سب حکومتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ قرضے لیے ، اس حکومت نے ایک سال میں اندرونی و بیرونی قرضوں میں 31 فیصد اضافہ کیا ،(ن) لیگ کا یومیہ قرضہ 5ارب تھا بلکہ پی ٹی آئی کا 20ارب سے زائد ہے، ایک بلین کا قرضہ لے کر ایک بلین کا پرانا قرضہ واپس کر نے سے قرضے میں اضافہ نہیں ہو تا ۔ اہنے ایک ویڈیو پیغام میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ایک سال پہلے 24ہزار212ملی بلین قرض تھا جو ایک سال بعد 31ہزار 784 بلین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے ہمارا اندرونی قرضہ 16400اور بیرونی 7800بلین تھا،ایک سال کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا 20ہزار 700 اندرونی قرضہ اور بیرونی قرضہ 11ہزار ایک سو ہو گیا دونوں کو جمع کر کے یہ 31ہزار 800 بلین بنتا ہے، اس میں اندرونی قرضے میں تقریباً 26فیصد اور بیرونی قرضہ میں 44فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ ٹوٹل 31فیصد بنتا ہے جو کہ گزشتہ سب حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت روز کہتی ہے کہ ہم گزشتہ حکومت کے قرضے واپس کررہے ہیں، یہ اس حکومت کا مضحکہ خیز بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک بلین کا نیا قرضہ لے کر ایک بلین کا پرانا قرضہ واپس کریں گے تو اس سے اضافہ نہیں ہو گا بلکہ جب آپ قرضہ زیادہ لیں گے اور واپس کم کریں گے تو اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت نے 8200بلین اور (ن) لیگ نے 9200ملین کا اضافہ کیا، یہ آئی ایم ایف کے معاہدے سے بھی زیادہ قرضے لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے پی ٹی آئی کی ٹیم جو ہٹلر کے پروپیگنڈہ کی پیروی کرتی ہے سمجھتی ہے کہ یہ سچ ہو جائے گا یہ سب جھوٹ ہے، یہ ایسی حکومت ہے جس نے ایک سا ل میں 7200بلین قرضوں کا اضافہ کیا، یہ کہتے تھے کہ ہم قرضے نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کے دورہ امریکہ کے دوران کہا کہ (ن) لیگ نے 31ہزا ر ارب کا قرضہ چھوڑا جبکہ سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر ابھی انہوں نے اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب (ن) لیگ نے حکومت سنبھالی اس وقت جی ڈی پی 60.1فیصد تھا جبکہ چار سال میں 61.3فیصد ہوا، (ن) لیگ کا یومیہ قرضہ 5ارب تھا بلکہ پی ٹی آئی کا 20ارب سے زائد ہے،جب (ن)لیگ نے حکومت سنبھالی لوڈشیڈنگ تھی ہم نے ترقیاتی کام کئے ،لوڈشیڈنگ ختم کی، 11ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی، 17سو کلو میٹر کے موٹروے کے منصوبے بنائے، پاکستان کی سیکیورٹی کو مضبوط کیا، ترقیوں کا جال بچھایا، صوبوں کو 1200سے 2100ملین ملنا شروع ہو گئے، ہم نے ریونیو بڑھایا، ہم نے جی ڈی گروتھ کو بڑھایا، پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا، اب جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، پاکستان ایک جمود سمت کی جانب چلا گیا ہے۔(اح+ع و)

اپنا تبصرہ بھیجیں