بھارت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے، اقوام متحدہ کا پرزور مطالبہ

نیو یارک اقوام متحدہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے اور وہاں کرفیو، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش کو ختم کرے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اقوام متحدہ کے اعلی ترین فورم پر نوٹس لیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیرس اور انسانی حقوق سے متعلق نمائندے کشمیر کے حالات پر اظہارِ تشویش کرچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی کو بحال کیا جائے اور مقبوضہ وادی میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کرفیو کا آج 20واں روز ہے مگر حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہو رہے ہیں۔مواصلاتی نظام بھی بدستور معطل ہے جبکہ جمعے کو کرفیو اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مقبوضہ وادی میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔سری نگر میں مظاہرین اور بھارتی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ قابض فوج کے طاقت کے اندھے استعمال سے متعدد مظاہرین کو زخمی کر دیا۔قابض فوج نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گن اور آنسو گیس کے شیل فائرکیے جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سری نگر کی مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے علاوہ کسی بڑے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شدت پسند ہندوں کی جانب سے کشمیری خواتین سے متعلق نازیبہ بیانات کے بعد کشمیریوں نے اپنی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کے تحفظ کے لیے محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنا دی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں