عوام کرونا وائرس جیسے وبائی مرض سے بچائو کیلئے احتیاطی تدابیر کو اپنائیں،سردارکمال خان بنگلزئی

کوئٹہ(این این آئی)ممتاز قبائلی و سیاسی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی نے بلوچستان کے تمام عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا وائرس جیسے وبائی مرض سے بچائو کیلئے احتیاطی تدابیر کو اپنائیں اور اپنے فیملی، رشتے داروں اور اہل وطن کی خاطر گھروں تک محدود رہیں اور اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگیں کیونکہ ایسے وبائی امراض اﷲ کی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک روایتی صوبہ ہے جہاں اس وبائی مرض کے خلاف احتیاط کو محسوس نہیں کیا جارہا لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور اکٹھے بیٹھتے ہیں جو کہ کسی طرح بھی درست نہیں کیونکہ یہ وبائی مرض بڑی آسانی سے ایک بندے سے دوسرے بندے میں منتقل ہوجاتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وبائی مرض سے بچائو کیلئے جو احتیاطی تدابیر مرتب کی گئی ہیں ان پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور لوگ گھروں تک محدود رہیں کیونکہ میل جول سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ اسلام میں بھی ایسی بہت سی مثالیں اور احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی اور صحت کا خیال رکھنا کس قدر ضروری ہے تاہم اس حوالے سے علماء کرام کی رہنمائی بھی لی جاسکتی ہے جو کہ اس حوالے سے اپنی رہنمائی عوام تک پہنچابھی رہے ہیں لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ اس مرض سے بچائو کیلئے تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کی آگاہی مہم کے حوالے سے مزید اقدامات اُٹھائے اور اس وبائی مرض کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اور بچوں کا جو تعلیمی سال متاثر ہوا ہے اس حوالے سے کوئی پالیسی مرتب کرے کیونکہ ایسی صورت میں ہم یہ چیز محسوس کررہے ہیں کہ تعلیمی اداروںکی بندش کے دورانیئے میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور حکومت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ بعض پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے کوئٹہ میں اس حوالے سے آن لائن کلاسز کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے اس کے بھی کوئی دور رس نتائج برآمد ہونے کی توقع نہیں ہے لہٰذا ایک مربوط پالیسی مرتب کرکے بچوں اور بچیوں کے تعلیمی سال کو بچانے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں انہوں نے مزید کہاکہ حکومت تعلیمی اداروں میں کورنٹائن سینٹر بنانے کے بجائے کوئٹہ شہر سمیت صوبے بھر میں پرائیویٹ ہسپتالوں، کلینکس اور سرکاری گیسٹ ہائوسز میں کورنٹائن سینٹر بنائے اور وہاں پر تمام سہولیات فراہم کرے تعلیمی اداروں میں کورنٹائن سینٹر بنانے کے مستقبل میں بچوں اور بچیوں کی صحت کیلئے یہ عمل کسی بھی طرح درست نہیں ہوگا لہٰذا اس پر سنجیدگی سے سوچا جائے اور تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں