شدید طوفانی بارش کے بعد ندی نالوں میں سیلابی ریلے آنے سے سروتی حفاظتی بند ٹوٹ گیا

ہرنائی (این این آئی) ) ہرنائی،شاہرگ وگردوانواح میں گرج چمک کے ساتھ شدید طوفانی بارش ندی نالوں میں اونچے درجے کا سیلابی ریلے آنے کے باعث ہرنائی سٹی اور دیہی علاقوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے کیلئے تقریباََ ایک ہزار فٹ سے زیادہ لمبا سروتی حفاظتی بند سیلابی ریلے کی نظر ہوگیا سروتی حفاظتی بند ٹوٹنے کے باعث ہرنائی سٹی اور دیہی علاقوں میں سیلابی ریلے داخل ہوگئے سیلابی ریلے رہائشی علاقوں میں داخل ہونے کی وجہ سے محلہ اخترآباد ، جلال آباد، بابو محلہ ہرنائی شہر ، کلی زرمانہ ، کلی میانی آباد ، نیو جلال آباد ، تبلیغی مرکز کے قریب رہاشی علاقوں ، ندی نالوں کے قریب خانہ بدوش جوکہ جھونپڑیوں میں رہائش پزیزتھے انکے گھروں ، کلی مرزا کلی لعل حان ، کے مختلف علاقوں میں اونچے درجے کے سیلاب آنے سے بڑے پیمانے پر گھریں ، دکانیں مہندم گھروں دکانوں میں موجود سامان سیلابی ریلے بہا کر لے گئے اسکے علاوہ اسپین تنگی میں بھی مختلف علاقوں سیلابی ریلوں نے زرعی زمینوں اور فصلات کو شدید نقصان پہنچایا گیا سروتی حفاظتی بند 2002 ء اور2010 ء میں ٹوٹ گیا تھا اس وقت بھی ہزارلوگوں مذکورہ بند کے ٹوٹنے کے باعث متاثر ہوگئے کئی بار سروتی حفاظتی بند کو تعمیر کیا گیا تاہم بہت بڑا حفاظتی بند اور سیلابی پانی کا تیز بہائو کے باعث سروتی بند تعمیر ہونے کے بعد معمولی سیلاب آنے سے ٹوٹ جاتا ہے گزشتہ سال بھی سروتی حفاظتی بند میں بڑے بڑے شگاف پڑنے کی وجہ سے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ضلعی آفیسران کے ہمراہ سروتی حفاظتی بند کا دورہ کیا جہاں پر محکمہ ایرگیشن اور ڈپٹی کمشنر نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ سروتی حفاظتی بند کو معیاری میٹریل سے تعمیر کرنے کیلئے محکمہ ایرگئیشن کے سنیئر انجینئرزنے پی سی ون تیار کیا گیا جس پر تقریباََ60 کروڑ روپے لاگت آیا گیا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ نے محکمہ ایرگئیشن کو سروتی حفاظتی بند کی جلد سے جلد تعمیر کرنے کیلئے محکمانہ طورپر بھی کوشش کرنے کی ہدایت کی تھی اور خود بھی اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سے فنڈز منظور کرانے کی یقین دہانی کی اور صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے گزشتہ سال اپنے فنڈز عرضی بنیادوں پر سروتی بند کے شگاف کو بند کرنے کیلئے گھنٹے فراہم کئے اور ایک سال کے بعد 23 مارچ کو ہرنائی و شاہرگ گردونواح و پہاڑی سلسلوں میں چار گھنٹوں سے زائد طوفانی بارش ہوئی جس کے نتیجے میں پہاڑوں سے وام تنگی ندی اور دیگر چھوٹی بڑی ندیوں میں ایک بہت بڑا سیلابی ریلے آیا اور سروتی حفاظتی بند ٹوٹ گیا اور ایک ہزار فٹ سے زائد حصہ حفاظتی بند کو سیلاب بہاکر لے گیا سیلابی ریلہ ہرنائی سٹی اور کلی زرمانہ ، ترو، سیان ، محلہ اخترآباد ، میانی آباد ، جلال آباد ، بابو محلے اور شہر میں داخل ہوگیا سیلابی پانی گھروں دکانوں میں داخل ہوگئے یہ بھی قدرت کاکرم تھا کہ لاک ڈائون کے باعث تمام مرد حضرات اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے اور سروتی بند ٹوٹنے کے اطلاع ملتے ہی لوگوں نے اپنے بال بچوں کو گھروں سے نکالنا شروع کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع کردیا گیا جو لوگ گھروں میں پھنس گئے تھے انہیں ایف سی ، اور لیویز فورس اور علاقے کے نوجوانوں نے نکال دیا گیا سیلاب سے تقریباََ 400 سے زائد گھر ، 200 کے قریب دکانین ، اور 7 ہزار سے زائد زرعی زمینیں جن میں پیاز ،لہسن ، گندم کی فصل کاشت سمیت مکمل طورپر بہاکر لے گئے جس عوام اور زمینداروں کا کروڑوں روپوں سے زائد کا نقصان ہوا ہے اور ہزار لوگ بے گھر ہوکر بے یار ومدگار کھلے آسمان تلے محفوظ مقامات پر پڑے ہوئے پی ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان ضلعی انتظامیہ نے متاثرین میں تقسیم کیا گیا جوکہ اونٹ کے منہ زیرے کی برابر تھا سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ سیلاب نے ہمارے سب کچھ بہاکر لے گیا ہے جو کپڑے پہنے تھے وہ بچ گئے اور گھروں میں موجود زیورت نقدی سمیت دیگر گھریلوں استعمال کے سامان سیلاب ریلوں کی نظر ہوگئی ہے سروتی حفاظتی بندٹوٹنے کی اطلاع ملتے ہی کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل شاہ رات گئے ہرنائی پہنچ گئے اور ڈپٹی کمشنر ہرنائی عظیم جان دمڑ کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے کمشنر سبی کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا گیا اور ساتھ ہی سیلاب کے دوران گھروں میں پھنسے لوگوں کو بروقت گھروں نکالنے کے حوالے سے انہیں بتایا کہ ایف سی کے جوانوں اور لیویز کے جوان بروقت پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کرکے لوگوں کو گھروں سے نکال دیا گیا اور ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر عظیم جان دمڑ نے کمشنر سبی کو محکمہ ایرگئیشن اور محکمہ بی اینڈآر ون اور ٹو کی آفیسران کے ضلعی ہیڈکوارٹر سے غیر حاضری ، لاپرواہی ، غفلت کے حوالے سے بھی آگا کیاگیا کمشنر سبی ڈویژن سید فیصل شاہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بروقت مددکرنے پر لیویز اور ایف سی کے جوانوں کی کارکردگی کو سراہا اسکے علاوہ صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے بھی ہنگامی طورپر ہرنائی کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے پاس گئے انکے مسائل و مشکلات سنے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے اس موقع پر سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ایک سال سے ہی میں ہرنائی سروتی حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے فنڈز کی منظوری کیلئے کوشاں ہوں پی سی ون تیار کرلیاگیا ہے وزیراعلیٰ کے ٹبیل تک بھی پہنچایا گیا لیکن ابتک عمل درآمد نہیں ہوا ہے لیکن اب سروتی حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کرکے فنڈز ریلز کرنے کی ہرممکن کوشش کرونگا انہوںنے کہاکہ اس بار تو اللہ کے فضل وکرم سے صرف مالی نقصان ہوا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو شاہد دوبارہ سیلاب آنے کی صورت میں بہت بڑے جانے نقصانات کا خدشہ ہے سیلابی ریلے گھروں میں داخل ہونے کے بعد علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا سیلاب کی زد میں آنے والے گھروں میں موجود مرد وخواتین نے چیخ پکار شروع کردیا گیا سیلابی ریلہ شہر میں داخل ہونے کے بعد ہرنائی شہر اور محلے کی گلیاں ندی نالوں کامنظر پیش کررہے ہیں جبکہ وولن مل کے قریب ایک گاڑی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئی ،اسکے علاوہ بی اے پی کے ضلعی آرگنائزر ملک روح اللہ خان ترین نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقاتیں کی اس موقع پر مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملک روح اللہ خان ترین نے کہاکہ سیلاب سے ہرنائی میں جونقصان ہوا ہے نقصانات کا سروے کرکے وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کرونگا انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کو تہنا نہیں چھوڑے گے متاثرین کی بحالی اور سروتی حفاظتی بند کی تعمیر تک چھین سے نہیں بیٹھونگا انہوں نے کہاکہ سیلاب ، بارش ، زلزلے یہ تو اللہ کی جانب سے ہے عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جو سامان ملا ہے وہ تمام متاثرین تک پہنچائے گے ضلعی انتظامیہ ریونیو عملے کے زریعے سروے میں مصروف ہے اور جو زیادہ متاثر ین ہے انہیں اسی وقت امدادی سامان پہنچادیاگیا ہے دیگر متاثرین کو بھی فوری پرامدادی سامان فراہم کرینگے متاثرین کا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ ، کمشنر سبی ڈویژن ، چیف انجئنیر ایرگیشن ، اور بی اے پی کے ضلعی آرگنائز ملک روح اللہ خان ترین اور رکن اسمبلی محترمہ لیلیٰ ترین سے صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ سروتی حفاظتی بندکو ہنگامی بنیادوں پر فوج یا ایف سی کے زریعے تعمیر کرکے بار بار سیلاب ہونے والے نقصانات سے ہمیں بچایا جائے متاثرین نے کہاکہ ہمیں اور کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے صرف سروتی حفاظتی بند کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر ہے اور وہ بھی پاک فوج ، یا ایف سی کے زریعے کسی ایماندار کنٹریکٹرز کمپنی کے زریعے معیاری میٹریل اور پی سی ون کے مطابق تعمیر کریں متاثرین نے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ ، اور کمشنر سبی کو بتایا کہ جب آسمان میں بادل آتے ہی سیلاب کے زدمیں آنے والے علاقوں میں خوف وہراس پھیل جاتاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں