نوجوانان ایکشن کمیٹی باغ برشور اور ہمارے مسائل

تحریر:. بسم اللہ خان

صوبہ بلوچستان پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے چاہے وہ تعلیم کے لحاظ سے ہو، سیاسی ہو، صحت ہو یا روڈ کی تعمیر ہو۔یہ صوبہ ہمیشہ نظر انداز رہا ھے صوبے میں مختلف طلباءتنظیمیں متحرک ہوگئی ھے جسکا ایک تازہ مثال ضلع پشین تحصیل برشور سے بنائی گئی ایک نوجوانان ایکشن کمیٹی ہے جس میں بہت کم وقت میں ملک کے مختلف یونیوسٹیوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شامل ہوگئے ہیں اور اپنی بنیادی حقوق کا مطالبہ کرہے ھے اس کا آغاز گزشتہ دنوں پرشور میں قتل ہونے والی عارفہ شہید کے بارے میں ایک احتجاجی مظاہرہ سے ہوا جس میں برشور سے بہت سارے نوجوانوں نے شرکت کی اور اس ظلم کیخلاف آواز بلند کی۔

اس احتجاجی مظاہرے کا اتنا اثر ہوا کہ برشور کے نوجوانوں میں یہ جزبہ بیدار ھوا کہ ہم غلام نہں ھے بلکہ ھم آزاد ھے اور ہم اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ اواز بلند کرینگے۔ ان نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ اکیسویں صدی جہاں دنیا بلٹ ٹرین جیسے ذرائع استعمال کرتے ہیں ہم ابھی تک روڈ کا مطالبہ کرہے ہے، جہاں دنیا ائن لائن تعلیمی نظام تک پہنچا ہے اور ہمارے پاس آج بھی تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہے اور آج بھی یہاں سکول میں ٹھاٹ پر بیٹھ کر بچوں کو پڑھا یا جاتا ھے اور اکیسویں صدی میں ہم سکول میں واش روم کا مطالبہ کرہے ہیں جہاں دنیا میں میڈیکل اور ہسپتال کی سہولیات دستیاب ہوتی ھے اور ہمارے پاس آج بھی ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر نھی ہے آج دینا کا ہر ملک معاشی طور پر مضبوط ہورہا ہے

ہم آج بھی قرض لینے پر مجبور ہے اور یہاں کے ستر فیصد آبادی غریب ہے اور دو وقت کا کھانا میسر نھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہی کہ ہمارے سارے مسائل سیاسی اور قومی ہیں ہمارے ہاں سسٹم کی بنیاد ظلم اور بے انصافی پر ہے۔ہمارے ہاں سارے سیاسی لیڈرز نے اس قوم کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کبھی سنجیدہ نہی ہوئے۔ہیاں سرمائے اور سرمایہ دار کی حکومت رہی ھے اور آج بھی ھے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کریں ان کو سیاسی پلیٹ فارم دے ان پر اعتماد کریں اور ان کو اگے انے کا موقع دے۔برشور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیرسیاسی پلیٹ فارم بنا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بلا خیلی اور زی سے بالاتر ہے اور اس میں سب کی نمائندگی ہے۔برشور کے عوام کی امیدوں کی ایک کرن ہے۔امید کرتے ہے کہ یہ نوجوان منظم رہینگے اور برشور میں ایک نئی قوت بن کے رہیگی۔

ان نوجوانوں کے آواز پر برشور سے ہر فرد نے لبیک کہا اور عوام کے مجموعی رائے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عوام سیاسی پارٹیوں اور سیاسی رہنماوں سے مایوس ہیں اور ایک نئی قوت بنانا چاہیے ہے جو بلا رنگ، نسل اور قومیت کا ھو اور ایک عوامی سوچ رکھتا ھو۔آج ملک کے مختلف کونوں میں ضلع، تحصیل اور یونین کے سطحے پر کمیٹی اور تنظیمیں بنائی جارہی ھے جس سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ لوگوں میں ایک شعور بڑھ رہا ہے اور نوجوانوں میں ایک جزبہ بیدار ہورہا ہے ان تنظیموں کیساتھ ساتھ ہمیں بنیادی طور پرایک قومی جماعت کی ضرورت ھے جو ہمارے قومی مسائل حل کریں اس کے لیے ہمیں نوجوانوں میں قومی سوچ پیدا کرنا ہوگا ہمیں علاقائی سوچ سے نکنا ہوگا اور یہاں کا معاشی، سیاسی اور تعلیمی ادارے بھی قومی بنیادوں پر تعمیر کرنے ہونگے تب ہی ہم قومی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں