اسٹیبلشمنٹ یا عسکری ادارے ‘ ذمداریاں

تحریر:راشد منان

ایران میں سی آئی اے کےجاسوس کو پھانسی دیدی گئی۔ایک خبر’ آج کی تحریر کا آغاز اسی خبر سے کرتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں ایک سزا یافتہ جاسوس کو سزاے موت سے بچانے کے خاطر اسے اپیل کا حق دیا جا رہا ہے اس فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے قوانین کے مطابق کلبھوشن کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے تھے، انھیں یہ حق عالمی عدالت انصاف نے پاکستانی قوانین کے مطابق دیا ہے۔ دوسری خبر برادر اسلامی ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کی ہے

اسکے برعکس ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد میں رہایش پذیر چند بااثر ہندو گھرانوں کو نوزانے اور مہاراجہ ہندوستان کو خوش کرنے کی خاطر سرکاری زمین پر بیت المال سےمندر بنانے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے وزیر اعظم کنٹینر خان نے اس مندر کی تعمیر کے لیے 10 کڑوڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی ہے ۔جس کی درخواست وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے وزیراعظم سے ملاقات میں کی تھی۔اس ملاقات میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کا وفد بھی شریک تھا۔ مندر کی تعمیر کے اس فیصلے کےخلاف حکومت کو سخت عوامی رد عمل کا سامنا ہے گو کے عدلیہ کی طرف سے حکم امتناعی کی درخواست خارج کی جا چکی ہے۔دونوں ایوانوں میں اسکی حمایت اور مخالف بیانات بھی سامنے آئےجس کے بعد مدینہ ریاست کے دعویدار کنٹینر خان نیازی نے بیان جاری کیا کہ مزکورہ مندر بنیگا بالضرور بنیگا اور اسی جگہ پر بنیگا جس جگہ اسکی زمین الاٹ کی گئی وزیر اعظم کا یہ بیان انکی ضد اور ہٹ ڈھرم طبیعت کا عکاس ہے افسوس تو اس بات کا ہے کہ مذہبی امور کے وزیر جنھیں ظاہر ہے کہ یہ عہدہ انکے مذہبی رحجان کودیکھتے ہوئے دیاگیا ہوگا

انھوں نے قران و سنہ سے رجوع کیے بغیر وزیر اعظم سے گرانٹ کی اپیل کی اور مذہب سے نابلد وزیر اعظم جنھیں خاتم النبیین ص بھی صحیع ادا کرنانہیں اتا ملکی قوانین کے برخلاف اور اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کیے بغیر اسپر ہاں کر دی نہ صرف ہاں بلکہ اسپر انکا ببانگ دہل اصرار بھی ہے۔ گویا یہاں بھی معاملہ پکرے گئے ہندوستانی پائیلٹ ابھی نندن کی طرح کا ہے نہ کابینہ کا کوئی اجلاس نہ متعلقہ ادروں سے مشاورت نہ ایوان بالا اور زیریں میں اس پر کوئی بحث اسے چائے کی پیالی خشک ہونے سے پہلے ہی رہا کر دیا گیا۔ مندرجہ بالا دو خبریں دو برادر اسلامی ممالک کی ہیں اور بہت پرانی بھی نہیں جبکہ اس کے مقابل دوسری تمام خبریں اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہیں جسے اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے تینوں ہی آزاد اسلامی ریاستیں ہیں تاہم اگر تمام خبروں کا باریک بینی سے جایزہ لیا جائے تو دو برادر اسلامی ملک ایران اور ترکی اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار نظر اتے ہیں جبکہ پاکستان کے فیصلے اسکی آزادی اور خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان ہے اور بظاہر نہیں یقینا یہ کسی دباو اور ڈیکٹیشن کا شاخشانہ ہیں جس کے پیچھے ایک مقروض قوم کا کاسئہ گدائی ہے بظاہر ہم اپنے اپکو ممتاز کہتے رہیں مگر ہمیں تمام برادر اسلامی ملک مسکین اور دیگر اقوام عالم خصوصا امریکہ اور اسکے اتحادی ہمیں اپنا غلام اور کاسہ لیس تصور کرتے ہیں اور اسکا ثبوت انکی ہر بات پر ہماری ہاں ہوا کرتا ہے اور اس ہاں میں پہل ہمیشہ ہماری عسکری قیادت کی ہوتی ہے

منتخب جمہوری حکومتیں تھورا لیت و لعل کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر مرتا کیا نہ کرتا بالاخر انھیں بھی گھٹنے ٹیکنے پڑ جاتے ہیں۔کیا ایوب و یحیی خان اور کیا جنرل ضیائ اور پرویز مشرف سب نے خطے میں ہماری اہمیت ”سماجی حثیت ‘ طاقت اور دینی حمیئت کا سودا ان سامراجوں سے کیا ہے اور ہمارے ملک کو رسوا اور برباد کیا جی حضوری کے نتیجہ میں ہم نے اپنے ملک کی معاشرت’ معیشت ‘سیاست ‘ملکی سالمیت اور داخلی امن سب کچھ انکے ڈکٹیشن پر چھورا اور اقوام متحدہ کے ناروا سلوک کے باوجود اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام میں خود ہی اپنے آپ کو تہہ تیغ کیا پھر بھی ہم آج تک انھیں کسی معاملے میں راضی نہ کر سکے ع۔ اور نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ۔ہماری عسکری قوت جنھیں کچھ ڈر اور خوف اور کچھ مصلحت کے خاطر عام فہم زبان میں اسٹیبلیشمنٹ کے نام سے جانا اور کہاجاتا ہے اور جنھوں نے ایک لمبے عرصہ تک جمہور کا گلا گھونٹ کر ملک پر حکمرانی کے ڈونگرے برسائے نے نہ صرف اقوام عالم میں پاکستان کے تشخص اجاگر کرنے میں کوئی کردار ادا کیا اور نہ ہی آین پاکستان کے حلف کے مطابق ملک و ملت کی حفاظت اقوام عالم میں انکی نمایندگی سر بلندی اور رہبری کا فریضہ انجام دیا جس کے باعث انکے عزت و وقار میں روزانہ کے حساب سے کمی آتی گئی پہلے دبی زبان میں یکا دکا اسکا اظہار ہوا کرتا تھا زیادہ ترخاموشی و سرگوشی اور اشارے کنایوں میں انکےطرز عمل پر گفتگو کی جاتی تھی جو کہ اب رفتہ رفتہ زبان زد عام ہوتی چلی جا رہی ہیں خاکم بدہن راقم کو مستقبل قریب میں انکے خلاف ایک منظم جمہوری طاقت باقایدہ ان سے بر سر پیکار ہوتی نظر آرہی ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے ملک و ملت کی مذید بربادی کا سبب ہوگا راقم اپنے خدشات کے ثبوت میں ملک کے ایک ممتاز سیاستدان جو کہ خود کو باغی کہتے ہیں اورجو جمہور کے خاطر ہر آمریت میں قید و بند کی ایکبار نہیں کئی بار صعوبتیں جھیل چکے ہیں انکی اس لفظ اسٹیبلشمنٹ کے بجائے کھلے عام عسکری قیادت کے خلاف الزامات سے بھرپور پریس کانفرنس نے جہاں ملک کے سنجیدہ طبقے میں اضطراب کی لہر اور انھیں کچھ سوچنے پر راغب کیا ہے وہیں

انکی اس پریس کانفرنس کو عوام میں بھرہور پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے اور جس کے بنائ پر شوشل میڈیا پر انھیں ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی کے نام سے پکارا جانے لگا ازیں بعد سینٹ میں مولانا عطائ الرحمن کی تقریر جسکے جواب میں سینٹر سیف کی جوابی تقریر جو کہ نادانی کی بنیاد پر انھی عسکری قوتوں کے خلاف چلی گئی انھیں قطعا احسن نہیں کہا جا سکتا اب تواتر کے ساتھ انکی ان خامیوں جسکا موقع انھوں نے خود ہی دیا کھلے عام تنقید کی جانے لگی ہے جس میں سر فہرست ایک شکایت یہ کہ ہماری عسکری قوت نے کشمیر کو کسی بین الاقوامی شازش کے نتیجے میں ہمارے اصلی دشمن کے گود میں ڈال دیا اوراسنےاپنی حلف وفاداری کی توقیر نہ کی دوسری ملکی سیاسی معاملات میں انکی مسلسل مداخلت تیسرے ہر بڑے اداروں میں حاضر اور ریٹایرڈ لوگوں کی تعیناتی نے عام شہری کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ملک کے تمام بڑے اداروں میں انکی قابلیت اور صلاحیت کے باوجود انکی انٹری ممکن نہیں لہذا ہمارے ملک کہ یہ لعل و گوہر دوسرے ممالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور غیر ممالک کی تعمیر و ترقی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں ایک لمبی چارج شیٹ ہے جو ہم روزانہ ہی کسی نہ کسی سے ہر جگہ سنتے رہتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ انھیں تحریری شکل دے کر ملک کے محافظوں کی بے توقیری اور انکے خلاف بڑھتی بے چینی میں اضافہ کیا جائے ہمارا یقین ہے کہ ہماری عسکری قوت ہم سے کہیں زیادہ اس بارے میں معلومات رکھتی ہے مندرجہ بالا معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان بننے سے لیکر آج تک ملک بھر میں جاری سیاسی اور عسکری رسہ کشی کے خاتمہ کو ممکن بنانے کے لیے جہاں عوامی نمایندگان اور ملک کی مقتدر سیاسی جماعتوں سے جس ذمہداری کی توقع کی جاتی ہے اسکا جواب عسکری قیادت کی طرف سے بھی خلوص نیت اور حب الوطنی کے جذبات کے ساتھ دیا جانا چاہیے اس لیے کہ ہر دو ملک کے وفادار اور اسکی سالمیت اور حفاظت کے خاطر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرنے کے دعویدار اور ہر گھڑی تیار بھی ہیں بد اعتمادی کی فضائ اسوقت پیدا ہوتی جب مسند اقتدار پر بیٹھی حکومت کے وزیر اور مشیر جگہ جگہ یہ کہتے پھریں کہ حکومت وقت اور فوج فلاں فلاں معاملات میں ایک پیج پر ہے

گویا حکمران سیاسی قوت کے ساتھ ساتھ ملک کی عسکری قوت تمام اپوزیشن اور اسکے ووٹر ایک دوسرے کی ضد اور مخالف ہیں یہی نہیں غداری کے فتوی اسکے علاوہ ہیں بڑے ہونے اور وسایل اور اختیارات کا منبع ہونے کی صورت میں ہماری عسکری قوت کی زیادہ ذمداری ہے کہ وہ خود بھی اور حکومتی حلقوں کو بھی حکمیہ نہیں ملک کے بہتر مفاد میں التجائ اور تلقین کرتی رہا کرے کے آیئن پاکستان کی روح سے تو وہ پابند ہیں کہ حکومت وقت کی ہر جایز بات کا احترام کرینگے تاہم اسلامی اخوت ‘ انکساری اور رواداری کا تقاضہ ہے کہ وہ نہ صرف ملک کے تمام طبقات کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت کریں بلکہ انکا فریضہ ہے کہ وہ ہر حکومت کو اس کام کے لیے اپنی پشت پر امادہ وتیار بھی کرینگے۔ اگر ہماری عسکری قوت ملک میں اس فضائ کو بنانے میں کامیاب ہو گئی تو سمجھ لیجے کہ پھر کوئی کلبھوشن یادیو’ ریمنڈ ڈیوس یا سنھیا رچی ہمارے ملک کےمظلوم اور پسے طبقے کو اپنے ساتھ ملا کر اسکی سالمیت اور اسکے انررونی امن کو کبھی برباد نہیں کر سکینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں