نااہلوں کواہل بنانے کاسہرا مدارس کے نام !

تحریر : سعداللہ سعدی

رات ڈیڑھ بجے لائٹ چلی گئی ، گرمی کی شدت کی وجہ سے آنکھ کھل گئی جسم پسینے سے شرابور تھا۔ مچھروں کےبھنبھناہٹ نے نیند بھگانے میں مکمل کردار اداکیا۔ جسم بوجھل ہورہاتھا بستر چمٹ کرفراق کےلیے تیار نہیں تھا۔ بمشکل اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکا رات اپنی زلفیں بچھائی ہوئی تھی۔ چاند بادل کے اوٹ میں حسینہ کی مانند نیم چہرہ چھپارہاتھا۔ ایسے میں نیند مکمل طور پر کافور ہوگئی۔ اٹھ کرکے گھر کے صحن میں ٹہلنے لگا۔ خیالات کا تسلسل بڑھنے لگا آخرکار سوچا کیوں نہ اس وقت کو قیمتی بناوں۔ قلم کاپی اٹھاکر لکھنے لگا۔ آج کل اہل مدارس پرطعن وتشنیع کے نشتر خوب چلائے جاتے ہیں کیوں نہ اس موضوع پر کچھ لکھ لوں!

گیارہ جولائی 2020ئ بروز ہفتہ کراچی سے لیکر گلگت بلتستان و چترال کے دشوار گزار پہاڑوں تک۔۔۔کشمور سے لیکر بلوچستان کے دور افتاد علاقوں تک وفاق المدارس نے اپنے ہزاروں مدارس کے لاکھوں طلبہ وطالبات کے سالانہ امتحان کو اپنے روایتی نظم وضبط کے ساتھ تقریباً ڈھائی ہزار امتحانی مراکز کے نشیمن کو آباد کیا۔

آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ امتحانی مراکز میں آئے، امتحانات ہوئے ،ہزاروں اساتذہ گیے۔ دنیائے جہاں نے دیکھا میڈیا پر خبریں نشر ہوئی کہ مکمل ایس اوپیز کے ساتھ امتحانات ہوئے۔ یہ داڑھی پگھڑی والے ، یہ اونچی شلوار جبھے زیب تن کیے ہوئےاور سروں پہ ٹوپی رکھے ہوئے۔ انہوں نے ماسک بھی پہنے تھے اور سنیٹائزر بھی لگاکر دور دور فاصلوں کے ساتھ بیٹھ کرکے لاکھوں لوگ آئے امتحانات دیئے اور چلے گئے۔ کوئی ایک بھی کرونا کا پیشن نظر نہیں آیا۔ ایک بھی پازیٹو سامنے نہیں آیا۔ پر امن طریقے سے مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپناکام سمیٹ کرکے چلے گئے۔

بی بی سی لندن نے پروگرام کیا۔انڈی پنڈٹ نے پروگرام کیا۔ وائس آف امریکا نے کیمرے لگا کر کے رپورٹ لیا اور پروگرام کیا۔ سب نے دنیا کو دکھادیا کہ یہ ہے وہ لوگ جن کو دقیانوسیت کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ جن کو قدامت پسندی کے ساتھ تعبیر کیا جاتاہے۔ جن کو ان پڑھ کہاجاتاہے۔ جن کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ان کے پاس ایجوکیشن نہیں ان کے پاس تعلیم نہیں۔ آج یہ پوری دنیا کے سامنے سرخ رو ہوئے۔ تعلیمی جمود ختم کرکے ایک بار پھر اہل مدارس نے تعلیمی رونق بحال کردی۔ اور اپنے ان دعووں کو حقیقت کا روپ دیا کہ ہم مکمل ایس اوپیز کے ساتھ امتحانات کروائے جارہے ہیں ہمیں آپ سے زیادہ پاکستانی عوام اور پاکستانی طلبہ کافکر دامن گیر ہے۔

آج پوری دنیا انگشت بدندان ہے کہ یہ وہ لوگ جن کو ہم جدید دنیا کے ٹیکنالوجی کے الف با سے بھی بےخبر گردانتے تھے۔ آج انہوں نے پورے پاکستان کے تمام عصری تعلیمی اداروں کو مات دی ہے۔ حکومت اور تمام اداروں کے تعاون کے باوجود وہ ایک سکول نہیں کھول سکے۔ ایک کالج نہیں کھول سکے کسی یونیورسٹی میں تعلیم بحال نہ کرسکے۔ آج یہ داڑھی پگھڑی والوں نے آپ کی تمام خدشات ، افواہوں ،اندیشوں اور وساوس پر پانی پھیردی۔ آج اس عظیم کامیابی وکامرانی کا سہرا ساری دنیا وفاق المدارس کی زیرگ،دور اندیش،فراست وبصیرت سے لبریز قیادت کو دے رہی ہے۔
بعض ناعاقبت اندیش جو اپنی قد سے بڑی باتیں کرتے ہیں۔ جو رات دن اہل مدارس اور اہل قرآن کے بارے میں زبان درازی کرتے نہیں تھکتے۔ ان اللہ والوں کے بارے میں ،قال اللہ وقال الرسول کی گردان کرنے والوں کے بارے میں گندی زبان استعمال کرتے ہیں۔ جن کے سینوں میں قرآن پڑاہے۔ جن کے سینے احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرسبز ہیں۔ جن کے دماغوں نے اسلامی تاریخ محفوظ کیاہے۔ اسلامی فلسفے کی حفاظت انہوں نے کی ہے۔ اسمائ الرجال، علوم قرآن، علوم حدیث، علوم تفسیراور علوم فقہ جنہوں نے محفوظ کیاہے۔ ان پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

جن میں اتنی اہلیت ہی نہیں جو ان اہل اللہ کے بارے میں بات کرے۔یہ حاملین قرآن ہیں۔ یہ چٹائیوں پر بیٹھ کرکے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی اپنا لوہامنواتے ہیں۔ یہیں سے لوگ اٹھ کرکے پوری دنیا میں گیے۔پروفیسر بنے ہیں انجینئیر بنے ہیں۔ ڈاکٹرز بنے ہیں۔سائنس دان بنے ہیں۔ یہاں ساٹھ ممالک کے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایک کالج کوئی ایک یونیورسٹی یا عصری ادراہ ایک سٹوڈنٹ پیش نہیں کرسکتا جو دوسرے کنٹریز سے آکر یہاں تعلیم حاصل کرسکے۔ پاکستانی مدارس پوری دنیا میں اول نمبر پر ہیں۔ پوری دنیا کی تعلیم یہاں کی دینی تعلیم کے مساوی نہیں۔ پوری دنیا کی دینی تعلیمی اداروں پر سبقت لے جانے والے پاکستانی مدارس ہیں۔

یہ بھی اہل مدارس کے لیے اعزاز ہے کہ مدرسہ بیت السلام میانوالی کے طلبہ نے ترکی میں ہونے والے بین الاقوامی ٹیکنالوجی فیسٹول میں نمایاں نمبروں سے فائنل راونڈ تک رسائی حاصل کرکے پاکستان کانام عالمی سطح پر روشن کیا۔ مدرسہ کے چار طلبہ پر مشتمل ٹیم نے ٹیکنو فیسٹ 2020ئ میں اپنے پروجیکٹ میں سو میں سے ستاسی نمبر حاصل کرکے ٹاپ پوزیشن حاصل کیں۔
اس سال 22ستمبر سے 27ستمبر تک ترکی کے شہر استنبول میں عالمی تعلیمی اداروں کے مابین ہونے والے مقابلے اور فیسٹول میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔
ان طلبہ نے پاکستان کی ٹاپ آئی ٹی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں سرفہرست ہونے کی وجہ سے اس بین الاقوامی فیسٹول میں شرکت کے اہل قرار پائے۔

یہ مدارس ایسے تعلیمی ادارے ہیں کہ جہاں عصری تعلیمی اداروں کے پڑھے لکھے لوگ وہاں اپنے اداروں سے فارغ ہوکر کسی سرکاری جاب میں ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے سرکار اس کوریٹائر کرکے نا اہل قراردیتے ہیں۔ اور جن کو کام کے قابل نہیں سمجھتے کہ اب یہ بوڑھاہے جس کا دماغ ٹھکانے پر ہے نہ جسم صحیح کام کرتاہے۔ مدارس ایسے لوگوں کو نیئے سرے سے تعلیم دلواکر فارغ التحصیل بناتے ہیں اور اس کو واپس نئے سرے سے کام کا اہل بناکر عوام کی راہنمائی کے لیے بھیجتے ہیں۔ اس کی مثال امسال مولانا منظور احمد مینگل صاحب کے مدرسے سے ایک فارغ ہونے والے بوڑھے طالبعلم کی ہے۔ کہ وہ ساٹھ سال کی عمر میں سرکاری نوکری سے بالکل ریٹائر ہوئے تو علماءکرام نے ان سے ہیرا بناکر پیش کر دیا۔ یہ وہی مدارس ہیں جو عام پتھر سے موتی جواہر اور ہیرا بناتے ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں